خطبات محمود (جلد 19) — Page 336
خطبات محمود ۳۳۶ سال ۱۹۳۸ء کہ لاؤ ان کو گائے کا گوشت کھلائیں تو وہ بالکل انکار کر دیتے تھے اور ان کے آگے آگے بھاگے پھرتے تھے اور اگر کبھی دوست پکڑ کر زبردستی کرنا چاہتے تو چھڑا کر بھاگ جانے کی کوشش کرتے۔بہت عرصہ بعد بعض دوستوں نے بغیر بتائے انہیں گائے کا گوشت کھلا دیا لیکن جب ی انہیں بتایا گیا تو انہیں کئے ہو گئی۔تو انسان کی طبیعت پر بچپن کی بات کا بہت اثر ہوتا ہے اسی لئے انسان کے بچپن کی عمر اللہ تعالیٰ نے لمبی کی ہے۔کیونکہ یہی اس کے سیکھنے کی عمر ہے۔جانور کے بچہ نے چونکہ ماں باپ سے تربیت حاصل نہیں کرنی ہوتی اس لئے اس کا بچپن انسان کے بچپن کی نسبت سے بہت چھوٹا ہوتا ہے۔اگر ایک جانور کی عمر میں سال ہو تو اس کا بچہ چھ ماہ سے دوسال تک کی عمر میں جوان ہو جاتا ہے اور اس طرح اس کی تمام عمر اور بچپن کی عمر میں اوسطاً ایک اور تمیں کی نسبت ہوتی ہے۔لیکن انسان کے بچہ کے بالغ ہونے کی عمر اٹھارہ سال ہے اور اگر اوسط عمر پچاس سال سمجھی جائے تو گویا دونوں میں ایک اور تین کی نسبت ہے۔اگر انسان کیلئے بھی کی یہی نسبت ہوتی تو اس کیلئے کل عمر ۱۸×۳۰ یعنی پانچ سو چالیس سال کی ہونی چاہئے تھی لیکن جانوروں کی نسبت انسانی بچپن کا زمانہ بہت زیادہ ہے۔جانور چھ ماہ یا سال یا حد دوسال میں جوان ہو جا تا ہے لیکن انسان اٹھارہ سال کی عمر میں۔غرض جانور کی بلوغت کی عمر اور اس سے پہلی عمر میں بہت فرق ہے لیکن انسان کی عمر میں یہ فرق بہت کم ہے۔بعض ڈاکٹروں نے اس فرق کو دیکھ کر یہ خیال کیا ہے کہ شاید انسان کی عمر خوراک وغیرہ کی غلطی سے کم ہوگئی ہے لیکن بات کی یہ نہیں۔لوگ مادی ہونے کی وجہ سے مادیات سے نگاہ اوپر نہیں اٹھا سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چونکہ علمی وجود بنانا تھا اس لئے اس نے یہ انتظام کر دیا کہ وہ ماں باپ کے پاس زیادہ سے زیادہ عرصہ تک رہ سکے تا ان سے سیکھ سکے اور جانوروں میں چونکہ ماں باپ پر تعلیم کی ذمہ داری نہیں ہوتی اس لئے ان کے قبضہ میں بہت تھوڑا عرصہ بچہ کو رکھا ہے۔لیکن اہے انسان کی تعلیمی ذمہ داری اس کے ماں باپ پر رکھی ہے اس لئے اس کے بچپن کا زمانہ لمبا کیا ہے تا اگر ماں باپ اپنا فرض ادا کرنا چاہیں تو کر سکیں۔پھر بچوں کے بعد خاوند اور بیوی کا تعلق ہے۔عورتوں پر بھی تربیت کا حق ہے۔یوں تو اللہ تعالیٰ نے دونوں کو یکساں بنایا ہے لیکن یہ بھی فرمایا کہ مرد کو چونکہ ہم نے مربی بنایا ہے اس لئے