خطبات محمود (جلد 19) — Page 322
خطبات محمود ۳۲۲ سال ۱۹۳۸ء داخل ہو گئے ہیں تو اپنی تقریر کا رخ بدل کر کہنے لگے مسلمانو ! تم میں کتنی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔تم کہلاتے تو مسلمان ہو مگر کام وہ کرتے ہو جو ہندو اور سکھ بھی نہیں کرتے۔دیکھو سکھ مسلمان نہیں مگر ان میں یہ کتنی بڑی خوبی ہے کہ وہ ڈاڑھی رکھتے ہیں۔تم لوگ سکھوں کو برا کہتے ہو، ان کے ہزار عیب نکالتے ہومگر اتنا نہیں سوچتے کہ تمہاری ڈاڑھیاں تو منڈی ہوئی ہیں اور سکھوں نے اپنے منہ پر ڈاڑھیاں رکھی ہوئی ہیں۔پھر خود ہی سوچو کہ سکھ اچھے ہوئے یا تم۔ہر شخص کہے گا کہ تم مسلمانوں سے سکھ ہزار درجے اچھے ہیں۔پھر دیکھو تم حقہ پیتے ہو اور اٹھتے بیٹھتے حقہ کی نڑی تمہارے منہ میں ہوتی ہے۔جب کسی سے بات کرتے ہو تو تمہارے منہ سے حقہ کی بد بو آتی ہے۔مگر سکھوں کو دیکھو وہ حقہ کے قریب بھی نہیں جاتے اور ایک سکھ بھی ایسا نہیں ہے جو حقہ پیتا ہو۔مگر تم ڈاڑھیاں منڈواتے ہو، تم حقہ پیتے ہو اور پھر کہتے ہو کہ ہم اچھے ہیں۔تم سے تو سکھ ہزار درجے اچھے ہیں۔تھانیدار یہ سن کر کہنے لگا ہیں ! مولوی صاحب تو بڑی اچھی تقریر کر رہے ہیں۔پھر وہ کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا سنو اگر مولوی صاحب کی تقریر میں کوئی شخص بولا تو میں فوراً سے ہتھکڑی لگالوں گا۔اس کے بعد سپاہیوں کو اس نے ہدایت کی کہ میں تو اب جا تا ہوں مگر دیکھنا مولوی صاحب کے خلاف اگر کوئی ذرا بھی بولے تو اسے ہتھکڑی لگا لینا۔یہ کہہ کر وہ تھانے کو چل دیا۔ادھر وہ جلسہ گاہ سے باہر نکلا اور اُدھر مولوی صاحب نے پھر اپنا مضمون شرع کر دیا۔اس وقت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے مقابلہ میں جو شخص کھڑا تھا وہ ارائیں قوم سے تعلق رکھتا تھا اس زمانہ میں عام طور پر ارائیں قوم میں یہ رواج تھا کہ ان کی عورتیں شہروں میں جا کر تر کاریاں فروخت کرتی تھیں۔گواب خدا کے فضل سے اس میں بہت کچھ اصلاح ہے۔مولوی صاحب نے اپنی تقریر میں ارائیں قوم سے تمسخر کرنے شروع کر دیئے اور کہا بڑے مولوی بنے پھرتے ہیں۔حالت یہ ہے کہ ان کی عورتیں مولیوں اور گاجروں کا ٹوکرا سر پر اٹھائے ہر وقت چکر لگاتی کی رہتی ہیں اور کہتی ہیں لے لو بھیناں مولیاں لے لو بھیناں گاجراں۔وہ لوگ پھر دوڑے دوڑے تھانیدار کے پاس گئے اور کہنے لگے مولوی صاحب ہمیں گالیاں دے رہے ہیں۔مگر تھانیدار کہنے لگا تم سب شرارت کر رہے ہو۔اگر پھر بھی تم نے مولوی صاحب کے خلاف شکایت کی تو میں تم سب کی خبر لوں گا۔