خطبات محمود (جلد 19) — Page 293
خطبات محمود ۲۹۳ سال ۱۹۳۸ میں بھی میں ہوں وہی جبہ تمہارا ہو اور جو کچھ میں کروں وہی تم کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کئی دفعہ ایک مثال سنایا کرتے تھے جو بیسیوں دفعہ میں نے آپ کی زبان سے سنی ہے۔آپ فرماتے ہیں بندہ کا کام اسی رنگ میں رنگین ہو جانا ہے جو اسے خدا تعالیٰ بخشتا ہے۔پھر آپ مثال سناتے اور فرماتے کہتے ہیں کوئی راجہ تھا، ایک دفعہ اس کے سامنے بینگن کا سالن رکھا گیا جو بہت عمدگی سے تیار کیا گیا تھا اور اسے بہت پسند آیا۔اس نے دربار میں اُس کی تعریف کی اور کہا کہ بینگن معلوم ہوتا ہے بہت اچھی ترکاری ہے۔یہ سنتے ہی ایک درباری ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا حضور بینگن کے کیا کہنے ہیں اس میں یہ خوبیاں ہیں ، اس میں وہ خوبیاں ہیں۔چنانچہ جتنی تعریفیں طب میں بینگن کے متعلق لکھی تھیں وہ سب اس نے بیان کر ڈالیں اور آخر میں کہنے لگا حضور ! اس کی شکل بھی تو دیکھیں بالکل صوفی معلوم ہوتا ج ہے۔جس طرح صوفیوں نے سبز عمامہ پہنا ہوا ہوتا ہے اور ان کا کالاجتبہ ہوتا ہے اسی طرح اس کی شکل اور رنگ اور وضع سب صوفیوں کی سی ہے۔خیر بادشاہ جو چند دن مسلسل بینگن کھاتا رہا تو اسے بواسیر ہوگئی۔حکیموں نے کہا حضور ! آپ نے بڑی بے احتیاطی کی ، اتنے دن جو مسلسل آپ بینگن کھاتے رہے ہیں اسی وجہ سے آپ کو بواسیر ہوئی ہے۔بادشاہ نے یہ سُن کر بینگن کھانے ترک کر دیے اور ایک دن دربار میں باتوں باتوں میں کہنے لگا کہ بینگن بھی کچھ ایسی اچھی چیز نہیں ہوتے اس میں بھی کئی خرابیاں ہیں۔یہ سُن کر وہی درباری کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا حضور ! بینگن بھی کوئی ترکاریوں میں سے ترکاری ہے۔اس میں یہ مضرت ہے، اس میں وہ مضرت ہے۔چنانچہ طب میں بینگن کی جس قدر مضر تیں بیان کی گئی ہیں وہ سب اُس نے ذکر کر دیں کیونکہ طب میں ہر چیز کے فوائد اور نقصانات دونوں بیان ہوتے ہیں پھر آخر میں کہنے لگا کی حضور ! اس کی شکل بھی تو دیکھیں کیسی منحوس ہے۔جس طرح چور کے ہاتھ منہ کالے کر کے پھانسی پر لٹکایا ہوا ہوتا ہے اسی طرح یہ بیل سے لڑکا ہوا ہوتا ہے۔لوگوں نے اُسے کہا ارے! یہ کیا ، اُس کی دن تو تو بینگن کی اتنی تعریف کر رہا تھا اور آج تو اس کی برائیاں بیان کر رہا ہے۔وہ کہنے لگا میں بینگن کا نوکر تھوڑا ہوں، میں تو راجہ کا نوکر ہوں۔آپ فرماتے جب لوگ ایسے آقاؤں کی جو کی غلطیاں کر سکتے ہیں ایسی اطاعت کرتے ہیں تو ہم اُس آقا کی اتباع کیوں نہ کریں جو کبھی غلطی