خطبات محمود (جلد 19) — Page 283
خطبات محمود ۲۸۳ سال ۱۹۳۸ء جس چیز کو دنیا دین کہہ رہی ہو خدا تعالیٰ اسے مٹا کر رکھ دیتا ہے۔درحقیقت یہ نبوت کا مقام ہی ہے کیونکہ نبی ہی ہیں جو دین کے قیام کیلئے بھیجے جاتے ہیں اور گو وہ نبی نہیں ہوتے مگر نبوت کے مقام کے اتنے قریب ہوتے ہیں کہ گویا وہی ہو جاتے ہیں۔جس طرح لوہا جب آگ میں ڈالا جائے تو آگ کی شکل اور گرمی اور خواص سب اپنے اندر لے لیتا ہے اسی طرح وہ انبیاء کے اتنے قریب ہوتے ہیں کہ ان کی تمام خصوصیات کے ایک حد تک حامل ہو جاتے ہیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ لوہا جب آگ میں ڈالا جائے تو گو وہ انگارہ نہیں بن جاتا مگر پھر بھی آگ کے تمام خواص ظاہر کرنے لگ جاتا ہے۔وہ ویسے ہی جلاتا ہے جیسے آگ جلاتی ہے ، وہ ویسا ہی گرمی پہنچاتا ہے جیسے آگ گرمی پہنچاتی ہے ، وہ ویسی ہی شکل رکھتا ہے جیسی آگ کی شکل ہوتی ہے۔غرض رنگ ، شکل اور خواص کے لحاظ سے اس میں اور آگ میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔اسی طرح صدیق مقام نبوت کے اتنا قریب ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی باتوں کو نبیوں کی باتیں قرار دے دیتا ہے جس طرح نبیوں کی باتوں کو وہ اپنی باتیں قرار دیتا ہے۔پھر تیسرا گر وہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شُهَدَاء کا ہوتا ہے اور گوشُهَدَاء کیلئے خدا تعالیٰ کی کی غیرت اتنی نہیں بھڑکتی جتنی صدیقوں کیلئے بھڑکتی ہے۔پھر بھی وہ چلتے پھرتے خدا تعالیٰ کے گواہ کی ہوتے ہیں اور دنیا میں اگر کسی نے چلتے پھرتے جنتی کو دیکھنا ہو تو ان کو دیکھ لے۔اگر دنیا میں کسی نے خدا تعالیٰ کے پیاروں کو دیکھنا ہو تو ان کو دیکھ لے۔وہ خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کیلئے کی آئینہ کا رنگ رکھتے ہیں مگر ان میں اور صدیق میں ایک فرق ہوتا ہے۔یعنی صدیق کی مثال تو می ایک ایسے آئینہ کی ہے جس میں تصویر ثبت کر دی گئی ہے جسے جب بھی دیکھو اس میں محبوب کے ہو بہو خد و خال نظر آئیں گے۔آج دیکھو تو آج اور کل دیکھو تو کل۔لیکن شہید کی مثال اُس آئینے کی طرح ہے جو گو بنایا اسی لئے گیا ہے کہ محبوب کا چہرہ اس میں نظر آئے مگر پھر بھی اس میں محبوب کی تصویر مستقل طور پر کندہ نہیں ہے۔بایں ہمہ شیشہ اپنی ذات میں بھی ایک قیمتی اور مصفی چیز ہوتا ہے۔جب محبوب کا چہرہ اس میں نظر آرہا ہو تب بھی وہ قیمتی ہوتا ہے اور جب محبوب کا چہرہ اس میں نظر نہیں آرہا ہوتا تب بھی وہ قیمتی ہوتا ہے مگر بہر حال اس آئینہ میں محبوب کی تصویر دائمی طور پر مثبت نہیں کر دی جاتی۔ہاں اکثر اس میں محبوب کی شکل نظر آتی ہے کیونکہ شہید وہ آئینہ ہے جو کی