خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 282

خطبات محمود ۲۸۲ سال ۱۹۳۸ء کو الہی پیغام پہنچاتے چلے جاتے ہیں۔قطع نظر اس سے کہ لوگ انہیں دکھ دیں، اُن کا بائیکاٹ کریں، انہیں گالیاں دیں، اُنہیں ماریں یا اُنہیں پیٹیں وہ اپنی بات لوگوں کے کانوں میں ڈالتے چلے جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس نعمت کا عملی رنگ میں شکریہ یہی ہے کہ ہم تمام دنیا کے عذاب اپنے سر پر اٹھا لیں۔پھر ان کی اُمتیں اُن کی تابع ہو کر ساری دنیا میں تبلیغ دین کرتیں کہ اور لوگوں کو صداقت کی طرف دعوت دیتی ہیں۔وہ بھی بڑے بڑے دکھ اُٹھاتی ہیں اور ان پر بھی بڑے بڑے مصائب وارد ہوتے ہیں۔حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا پہلے انبیاء کی جماعتوں میں بعض لوگ ایسے گزرے ہیں جنہیں دشمنوں نے آروں سے چیر ڈالا مگر انہوں نے اُف تک نہ کی۔ہماری اپنی جماعت میں بھی اس رنگ کی تحدیث بالنعمت کے بعض واقعات موجود ہیں۔چنانچہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو جس وقت شہید کیا گیا ہے دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ ادھر اُن پر پتھر پڑ رہے تھے اور اُدھر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرتے جارہے تھے کہ یا اللہ ! میری قوم نادانی سے یہ فعل کر رہی ہے تو اسے معاف کر دے۔یہ کچی تحدیث بالنعمت ہے جو اُن سے ظاہر ہوئی کہ آخری وقت میں بھی ان کے دل میں یہی خیال آیا کہ میں نے جس عظیم الشان نعمت کو حاصل کیا ہے مجھے عذاب دینے والے اس سے محروم نہ رہیں اور چاہے وہ مجھے دُکھ دے رہے ہیں میں ان کے متعلق یہی دعا کروں کہ خدا انہیں معاف کرے اور انہیں کی احمدیت کی شناخت کی توفیق عطا کرے۔غرض نبوت پہلا اور سب سے بڑا انعام ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندہ کو دیتا ہے۔پھر اس سے اُتر کر قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ صدیقیت کا مقام ہے۔جب انسان نبیوں کے کہ نقش قدم پر چلتے چلتے اس قدر بلند مرتبہ حاصل کر لیتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے نبیوں والا سلوک کی شروع کر دیتا ہے۔وہ نبی نہیں ہوتے مگر خدا تعالیٰ کی غیرت ان کیلئے ایسی ہی بھڑکتی ہے جیسے نبیوں کیلئے ، وہ نبی نہیں ہوتے مگر اللہ تعالیٰ ان کی زبان پر اسی طرح صداقت جاری کرتا ہے جس طرح نبیوں کی زبان پر وہ کامل مظہر ہو جاتے ہیں اس مقام کا کہ دليُمَكنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ۔کے جس چیز کو وہ کہہ دیں کہ یہ دین ہے خدا تعالیٰ اُسی کو قائم کرتا ہے اور کی