خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 271

خطبات محمود ۲۷۱ سال ۱۹۳۸ء رنگ میں ہر جگہ ہی انگریزی حکومت کو ان سے فائدہ پہنچا ہے کیونکہ ہم انگریزوں کے انصاف کی تعریف کرتے تھے تو وہ بھی قدرتاً ان باتوں کو دُہراتے تھے لیکن حکومت کا یہ رویہ نہ بدلا تو لا زمانی آئندہ احمدیوں کے منہ پر کم سے کم ہندوستانی حکومت کی بُرائی ہوگی تعریف نہ ہوگی اور اس کا اثر دوسرے ملکوں پر بھی پڑے گا کیونکہ ہماری جماعت اس وقت سب دنیا میں خدا تعالیٰ کے فضل سے پھیل چکی ہے اور اگر ہم اور کچھ بھی نہ کریں تو بھی صرف یہ امر حکومت کی بدیوں سے دنیا کو واقف کرنے کیلئے کافی ہوگا اور وہ اس سزا کی عظمت کو محسوس کرے گی۔علاوہ ازیں ایک اور کی صورت بھی ہے۔ہم اگر گزشتہ واقعات کو لکھ کر ملک میں پھیلا دیں اور لوگوں کو یہ بتائیں کہ اس اس طرح ہمارے خلاف ہمارے دشمن کارروائیاں کرتے رہے یا بعض حکام یا ماتحت اظہار عداوت کرتے رہے ہیں لیکن باوجود وقت پر مقامی حکام کو توجہ دلانے کے اور پھر بالا حکام کو توجہ دلانے کے کوئی تدارک نہیں ہوا۔اس کے مقابلہ میں ہمارے بعض افراد پر دشمنوں نے غلط الزامات لگائے تو ان پر فوراً کارروائی کی گئی اور جواب طلبیاں یا قانونی کارروائیاں کی شروع ہو گئیں۔جس سے ظاہر ہے کہ ہمارے ساتھ نا انصافی کی جاتی ہے اور ہمارے مخالفوں سے جنبہ داری کا برتاؤ کیا جاتا ہے تو یہی ترکیب حکومت کو ہوش میں لانے کیلئے کافی ہے بلکہ ساری دنیا تو کجا اگر صرف ہندوستان بلکہ پنجاب میں ہی ایسا کریں تو تمام انصاف پسند لوگ حکومت کو ملامت کریں گے۔دراصل انسانی فطرت کو اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ جب اس پر صحیح الزام لگایا جائے تو وہ ضرور شرمندہ ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے غریب کو بچانے کیلئے یہ مادہ انسان کی فطرت میں رکھ دیا ہے کہ بڑے سے بڑے بادشاہ پر بھی جب سچا اعتراض کیا جاتا ہے تو وہ کانپ اُٹھتا ہے اور اس طرح غریب کے حق کی داد رسی ہو جاتی ہے تو ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے علاج حکام کی ضمیروں میں پوشیدہ طور پر رکھ دیا ہوا ہے۔ہمیں نہ فتنہ وفساد کی ضرورت ہے نہ عدم تعاون کی۔پچھلے دنوں جب حکومت کے بعض افسروں نے ہمارے متعلق یہ کہنا شروع کیا کہ یہ حکومت کے غدار ہیں تو ہم نے اس کے متعلق ولایت میں اُن پرانے افسروں کے پاس ذکر کیا جو ہمیں جانتے اور ہم سے اچھی طرح واقف ہیں۔اس پر پارلیمنٹ کے بعض ممبروں نے وزراء سے