خطبات محمود (جلد 19) — Page 237
خطبات محمود ۲۳۷ سال ۱۹۳۸ء فریسیوں کے متعلق یہ سوال پیدا ہوا کہ ہم ان کی باتوں کو مانیں یا نہ مانیں اور انہوں نے حضرت مسیح ناصری سے یہی سوال کیا تو چونکہ معلوم ہوتا ہے اُس زمانہ میں شریعت موسویہ میں لوگوں نے زیاہ تغیر نہیں کیا تھا ، چندنی با تیں تھیں جو حضرت مسیح نے اپنے پہاڑی وعظ میں بتا دیں اس لئے حضرت مسیح نے فرمایا : - فقیہ اور فریسی موسیٰ کی گڑی پر بیٹھے ہیں۔پس جو کچھ وہ تمہیں بتا ئیں وہ سب کرو اور مانولیکن ان کے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں لے گو یا بد عقیدگی ان میں کم تھی اور بداعمالی زیادہ تھی۔اسی لئے آپ نے یہ ہدایت کر دی کہ جو کچھ فقیہی اور فریمی کہتے ہیں اُس پر بے شک عمل کرو مگر ان کے اعمال کی نقل نہ کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے زمانہ کی حالت اُس زمانہ سے بالکل مختلف ہے۔اس زمانہ میں مثلاً تو رات میں بہت سے تغیرات کئے جاچکے تھے مگر باوجود تغیرات کے اور باوجود تحریف والحاق کے یہودی اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ ہماری کتاب محفوظ ہے مگر ہمیں ایک ایسی قوم سے واسطہ پڑا ہے جو اس کے بالکل الٹ چلتی ہے یعنی تو رات میں تو تبدیلی ہو چکی تھی اور یہودی قوم یہ اصرار کرتی تھی کہ اس میں تبدیلی نہیں ہوئی مگر قرآن جو کہ بالکل محفوظ ہے اس کے متعلق مسلمان کہتے ہیں کہ اس کی کئی آیتیں منسوخ ہیں۔اب یہ کتنا عظیم الشان اختلاف ہے اُس زمانہ کے یہودیوں اور اس زمانہ کے مسلمانوں میں۔وہ با وجود کتاب کے بگڑ جانے کے کہتے تھے کہ ہماری کتاب بالکل محفوظ ہے اور مسلمان باوجود اس کے کہ خدا کہتا ہے کہ اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں اور اس کے ایک حرف اور ایک شععہ کی تبدیلی بھی ناممکن ہے، مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اس کی بہت سی آیتیں منسوخ ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں قرآنی احکام پر عمل کرنے کا جوش باقی نہیں رہا کیونکہ انہیں خدا تعالیٰ کے کلام میں شک پیدا ہو گیا۔اور جب کسی حکم کے متعلق شک پیدا ہو جاتا ہے تو جوش عمل باقی نہیں رہتا اور ہر آیت پر عمل کرتے وقت انسانی قلب میں یہ وسوسہ پیدا ہو جاتا ہے کہ ممکن ہے جس آیت پر میں عمل کر رہا ہوں یہ منسوخ ہی ہو۔چنانچہ پانچ آیتوں سے لے کر چھ سو آیتیوں تک منسوخ قرار دی جاتی ہیں۔یعنی بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ قرآن کریم کی پانچ آیتیں منسوخ ہیں اور بعض نے زیادہ۔یہاں تک کہ بعض علماء نے کی