خطبات محمود (جلد 19) — Page 236
خطبات محمود ۲۳۶ سال ۱۹۳۸ء نو جوانوں کے ذہنوں میں پورے طور پر داخل کرے اور ایسے رنگ میں ان کی عادات اور خصائل کو ڈھالے کہ وہ جب بھی کوئی کام کریں خواہ عادتا کریں یا بغیر عادت کے کریں ، وہ اُس جہت کی طرف جارہے ہوں جس جہت کی طرف اس قوم کے اغراض و مقاصدا سے لئے جارہے ہوں۔جب تک کسی قوم کے نو جوان اس رنگ میں کام نہیں کرتے اُس وقت تک اسے ترقی حاصل نہیں ہوتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے ہیں اُس وقت عرب کا کوئی مذہب نہیں تھا اس وجہ سے جو بات بھی آپ بیان فرماتے وہ عربوں کیلئے نئی ہوتی اور اُن میں سے ہر شخص جو کی مسلمان ہوتا اس بات کو ذہن میں رکھ کر مسلمان ہوتا تھا کہ پچھلی تمام باتیں اُس نے ترک کر دینی ہیں۔پس اُس زمانہ میں مسلمان ہونے کا مقصد اور مدعا آپ ہی آپ سامنے آ جاتا تھا اور کوئی کی خاص زور دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی کیونکہ یکدفعہ ہر شخص یہ فیصلہ کر لیتا تھا کہ اسے اپنی گزشتہ تمام باتیں ترک کرنی پڑیں گی اور نئے مقاصد، نئی اغراض ، نئی شریعت اور نئے احکام اس کے سامنے ہوں گے لیکن جب کوئی ایسا سلسلہ شروع ہو جس کی بنیاد پہلے مذہب پر ہو اور وہ خالص اصلاحی سلسلہ ہو تشریعی نہ ہو تو اس کیلئے اس مقام میں پہلی جماعتوں سے زیادہ وقتوں کا کی۔سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض قسم کی وقتیں پہلی جماعت کو زیادہ ہوتی ہیں مگر اس میں بھی کوئی طبہ نہیں کہ بعض قسم کی وقتیں اصلاحی سلسلہ کو زیادہ ہوتی ہیں۔چنانچہ انہی دقتوں کی میں سے ایک وقت یہ ہے کہ ایسے سلسلہ کے افراد کو اس سلسلہ کے مقاصد اور اغراض سمجھانے کیلئے جد و جہد کرنا پڑتی ہے۔جب نو جوانوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا دین کوئی نیا دین نہیں تو کی قدرتی طور پر ان کا ذہن یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ سوائے چند مستثنیات کے جن میں ہمارے آباء نے غلطی کی اور وہ اصل شریعت سے دُور جا پڑے ہر چھلی چیز کو ہم نے قائم کرنا ہے۔اس وجہ سے ان کے ذہن میں کوئی امتیازی بات نہیں آتی اور وہ اس امر کے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ہم میں اور دوسروں میں کیا فرق ہے۔لیکن جب نیا دین ہو یا پہلے دین کی بعض باتوں میں تغیر و تبدل ہو تو وہ ہر قدم کے اُٹھاتے وقت یہ پوچھ لیتے ہیں کہ کیوں جی! یہ کام ہم نے اس طرح کرنا ہے یا اس طرح؟ حضرت مسیح ناصری کے زمانہ میں جب آپ کے متبعین کے دلوں میں فقیہوں اور