خطبات محمود (جلد 19) — Page 227
خطبات محمود ۲۲۷ سال ۱۹۳۸ء اُس کی تائید میں لگا دیتا ہے۔شرارتیں بھی ہوتی ہیں، مخالفتیں بھی ہوتی ہیں ، فتنے بھی اُٹھتے ہیں مگر اُسے مٹانے کیلئے نہیں بلکہ اس کی عزت اور عظمت کو ظاہر کرنے کیلئے۔ایک شخص اپنے گھر میں بیٹھا رہتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تباہ نہیں ہوا۔تو لوگ کہتے ہیں کہ تم پر کوئی آفت تو آئی نہیں تم تباہ نہ ہوئے تو کون سے تعجب کی بات ہے۔مگر ایک کو لوگ سمندر میں پھینکتے ہیں ، آگ میں ڈالتے ہیں مگر وہ نہیں کرتا تو دوسرے اس سے لازماً مرعوب ہوتے اور سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کوئی غیر معمولی آدمی ہے۔ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو آگ میں نہیں جلے۔اور ہم سب کا یہاں موجود ہونا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم آگ میں نہیں جلائے گئے مگر کیا ہمارا نہ جلنا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نہ جلنا ایک ہی بات ہے۔کیا اگر کوئی کہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ نے نہیں جلایا تھا تو تم بھی اس کے جواب میں کہہ سکتے ہو کہ ہمیں بھی نہیں جلایا۔ظاہر ہے کہ اِن دونوں کی باتوں میں کوئی نسبت ہی نہیں۔تم کو آگ میں ڈالا ہی نہیں گیا مگر حضرت ابراہیم کو آگ میں کی ڈالا گیا اور پھر وہ نہیں جلے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر حملے ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی ان کو تباہی سے بچاتا ہے تا وہ کہہ سکیں کہ ان کو تباہ کرنے کی کوششیں کی گئیں مگر وہ تباہ ہوئے کی نہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دعویٰ کہ وہ آگ میں نہیں جلے ان کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے مگر تمہارا یہ کہنا کہ تم آگ میں نہیں جلے ایک پاگل کی بڑ سمجھی جائے گی کیونکہ تمہیں جلانے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کیلئے بادشاہ اور رعایا سب نے اکٹھے ہو کر کوشش کی اور آپ کو آگ میں ڈال کر جلانا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے بارش نازل کر کے آگ کو بجھا دیا اور ایک ایسا نشان ظاہر کیا جس سے سب مخالف مرعوب ہو گئے اور انہوں نے اپنا ارادہ ہی چھوڑ دیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تباہ کرنے کی کوششیں کی گئیں مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ محفوظ رکھا اور یہ آخری غلبہ ہی خدا تعالیٰ کا نشان ہوتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کو وہ عظمت اور شان حاصل ہے جو دوسروں کو نہیں اور یہ مقام کسی سے مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ آئے اور اسے حاصل کرے۔پس یہ خیال مت کرو کہ یہ مقام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت موسیٰ علیہ السلام،