خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 209

خطبات محمود ۲۰۹ سال ۱۹۳۸ء کہیں بائبل سے تو حید کی تعلیم سنا رہے ہیں۔غرض انہوں نے زبردست بحث کی اور اس پادری کو کی سخت شکست اُٹھانی پڑی۔اسی طرح روزانہ وہ رات کو آتا اور حوالے لکھا جاتا اور صبح آپ خوب دھڑلے سے پیش کرتے۔بعد میں یہ مباحثہ انہوں نے کتابی صورت میں بھی شائع کر دیا اور مظاہرالحق اس کا نام رکھا۔ہندوستان میں لوگوں نے اس کتاب سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے۔اب دیکھو اس پادری کی طبیعت پر حق کا اثر تھا۔اُس نے جب دیکھا کہ آج حق مظلوم ہے تو اُس کی حمایت کا اُسے جوش آ گیا اور اس نے کہا آج تو حید کہیں شکست نہ کھا جائے۔چنانچہ وہ رات کو آتا اور حوالے لکھا جاتا اور گو وہ لوگوں سے چھپ کر آیا مگر بہر حال آتو گیا۔تو جب کوئی شخص کی نیک کام کرنے کیلئے کھڑا ہو جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ خود بخود لوگوں کے دلوں میں تحریک پیدا کر دیتا ہے اور وہ اس کی تصدیق اور تائید کرنے لگ جاتے ہیں۔پس قادیان کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنا نیک نمونہ دکھا ئیں۔خصوصیت سے میں مجلس خدام الاحمدیہ کے اس رکن کو مخاطب کرتا ہوں جس نے مجھے خط لکھا اور میں اسے کہتا ہوں کہ کی تم بھول جاؤ اس امرکو کہ قادیان میں کوئی اور شخص بھی ہے۔تم سمجھو کہ صرف تم پر ہی اس کام کی ذمہ داری عائد ہے۔کیونکہ وہ شخص ہرگز مؤمن نہیں ہوسکتا جو کہتا ہے کہ میری یہ ذمہ داری ہے اور فلاں کی یہ ذمہ داری ہے مؤمن وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ صرف اور صرف میری ذمہ داری ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم تجھ سے پوچھیں گے کسی اور سے نہیں ہے مگر اس سے مراد بھی صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ ہر مؤمن مراد ہے۔اور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں تم میں سے ہر شخص سے یہ سوال کروں گا کہ تم نے کیا کیا۔مجھے ہمیشہ خوشی ہوتی ہے اپنے ایک فعل پر جو گو ایک بچگانہ فعل تھا مگر جس طرح بدر کے موقع پر ایک انصاری نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں کی گے، دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے اور اس صحابی کو اپنے اس فقرہ پر ناز تھا۔اسی طرح مجھے بھی اپنے اس فعل پر ناز ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے تو چونکہ