خطبات محمود (جلد 19) — Page 193
خطبات محمود ۱۹۳ سال ۱۹۳۸ء ایک مزید استدلال اس بارہ میں یہ پیش کیا جاتا ہے کہ مہا بھارت کے ابتدائی دور کے نسخوں میں پانڈوؤں کی مذمت کی گئی ہے اور کوروں کی تعریف کی گئی ہے کیونکہ اُس زمانہ میں آریہ قوم ابھی نئی نئی آئی تھی اور غیر قوموں کو شمالی ہندوستان سے نکال رہی تھی۔اس دشمنی کی وجہ سے وہ غیر آریائی قوموں کو بہت بُراسمجھتی تھی لیکن بعد کے زمانہ کے اضافوں میں یہ نقشہ اُلٹ گیا اور پانڈوؤں کی تعریف اور کوروں کی مذمت نظر آتی ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ بعض غیر آرین نسلیں کی آرین نسلوں میں مل جل گئیں اور اب ان کے فاتحین آرین نسل کے فاتحین کی طرح قابل تعریف ہو گئے اور ہارنے والے کو ر و قابل نفرت قرار پائے۔میرا یہ منشاء نہیں کہ میں اس کو ہندو قوم کے عام خیال پر ترجیح دوں۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس امر کے بارہ میں اختلاف ہے اور خود ہندو مصنفین نے اختلاف کیا ہے۔مجھے اپنے مضمون کیلئے اس اختلاف میں پڑنے یا اس کا فیصلہ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔کیونکہ کوئی بات بھی مان لی جائے میرے مضمون کی صحت پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔میری غرض تاریخی ترتیب پیش کرنے کی نہیں تھی بلکہ جلالی اور جمالی انبیاء کے متعلق ایک مثال دینے کی تھی۔اگر یہ صحیح ہے کہ رام چندر جی پہلے ہوئے ہیں تو پھر وہ مثال یوں بن جائے گی کہ ویدوں میں دشمنوں سے لڑائی کے متعلق جو تعلیم دی گئی ہے اس کی سے جب یہ غلط نہی لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوگئی کہ وید تلوار کے زور سے پھیلائے گئے ہیں تو اس کے ازالہ کیلئے رام چندر جی آئے اور کرشن جی سے بعد میں ایک اور سلسلہ شروع ہوا اور اگر وہی ترتیب درست ہو جو میں نے بیان کی تھی تو مثال اپنی جگہ پر قائم رہے گی۔اس تحقیق کے دوران ایک اور عجیب بات بھی معلوم ہوئی جسے تاریخی طور پر نہیں بلکہ ذوقی طور پر میں بیان کرتا ہوں اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی تھی کہ آپ حضرت کرشن کے مثیل ہیں۔اب اس تحقیق کے دوران میں معلوم ہوا کہ پانڈوی منگولین ریس یعنی مغل قوم میں سے تھے اور پرانے ہندو لٹریچر میں ان کو زردا قوام قرار دیا گیا تھا جو چینیوں کا نام ہے۔اس لحاظ سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مشابہت ثابت ہے۔کیونکہ آپ بھی منگولین ریس میں سے ہیں اور آپ کا خاندان مغلیہ خاندان ہے اور مغل سب چینی ہیں ، گواصل میں ہمارا سب کا منبع عرب ہے۔صرف درمیانی عرصہ میں کسی قوم کے