خطبات محمود (جلد 19) — Page 179
خطبات محمود 129 سال ۱۹۳۸ ضرور نظر آتا ہے جبکہ وہ اپنے جذبات کو نہ دبا سکے۔جنگ بدر کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر مسلمانوں کو یہ بتانے کے کہ کوئی جنگ کی ہو گی ، انہیں ساتھ لے کر مدینہ سے چل پڑے۔بدر کے مقام کے قریب پہنچ کر آپ نے بتایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ ہم میں اور کفار میں ایک جنگ ہوگی۔پس بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے۔اس پر مہاجرین کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رَسُول اللہ ! رائے کیا کی ہوتی ہے۔چلئے اور دشمن کا مقابلہ کیجئے ہم ہر وقت لڑنے کیلئے تیار ہیں مگر جب مہاجر خاموش کی ہو جاتے تو آپ پھر فرماتے اے لوگو مشورہ دو۔اس پر پھر کوئی مہاجر کھڑا ہوتا اور وہ کہتا حضور ہم لڑنے کیلئے تیار ہیں۔مگر جب وہ خاموش ہو جاتا تو آپ پھر فرماتے اے لوگو! مشورہ دو۔آخر انصار سمجھ گئے کہ مشورہ دو سے مراد یہ ہے کہ ہم بولیں اور اپنی رائے پیش کریں۔دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو انصار نے آپ سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ ہم مدینہ سے باہر آپ کی حفاظت کے ذمہ دار نہیں ، ہاں مدینہ کے اندر آپ کے ذمہ دار ہیں۔پس ج چونکہ اس معاہدہ کے بعد انصار پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی تھی اور وہ مدینہ سے باہر آپ کی مدد کرنے میں آزاد تھے اس لئے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا کہ اے لوگو ! مشورہ دو تو ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یا رَسُول اللہ ! کیا آپ ہم سے پوچھتے ہیں۔آپ نے فرمایا ہاں۔اس پر اس نے عرض کیا یا رَسُول اللہ ! آپ کی مراد شاید اس معاہدہ سے ہے جو ہم نے اُس وقت کیا تھا جب آپ مدینہ تشریف لائے تھے۔آپ نے فرمایا ہاں۔اُس نے کہا یا رَسُول اللہ ! وہ معاہدہ اُس وقت کا تھا جب ہمیں آپ کی رسالت کا مقام معلوم نہیں تھا، ہم نے اس وقت نادانی سے یہ معاہدہ کیا ، مگر یا رَسُول اللہ ! اب تو ہم آپ کے مقام کو خوب پہچان چکے ہیں اور اب سوال یہ نہیں کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا بلکہ سوال یہ ہے کہ حضور کیا حکم دیتے ہیں۔یا رَسُول اللہ ! چلئے جدھر چلتے ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔پھر اس نے کہا یا رَسُول اللہ ! سامنے سمندر ہے اگر اس میں گھوڑے ڈالنے کا حکم دیں تو ہم اس کیلئے بھی تیار ہیں۔یعنی کفار