خطبات محمود (جلد 19) — Page 178
خطبات محمود ۱۷۸ سال ۱۹۳۸ء اور دوسرے لڑکے بے اختیار پھر دوڑے چلے جارہے ہیں۔میں نے آواز دی کہ مولوی صاحب ٹھہر و مگر اُنہوں نے میری آواز کو نہیں سنا۔میں نے پھر کہا کہ ٹھہر و مگر وہ پھر بھی نہیں رکے یہاں کی تک کہ وہ اُس موڑ سے کئی گز آگے نکل گئے جو میاں بشیر احمد صاحب کے مکان کے جنوبی کونے پر مسجد اقصیٰ کی طرف مڑتا ہے۔میں نے اُس وقت سمجھا کہ اب اگر ایک لحظہ بھی اور دیر ہوئی اور یہ موڑ سے دوسری طرف ہو گئے تو پھر میرا ان پر کوئی اختیار نہیں رہے گا اور انہوں نے جاتے ہی جو ہند وسامنے آیا اُس سے لڑنا شروع کر دینا ہے۔پس اُس وقت مجھے ایک ہی علاج کی نظر آیا اور میں نے مولوی صاحب کو آواز دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ایک قدم بھی آگے بڑھے گی تو میں آپ کو جماعت سے خارج کر دوں گا۔ایک مخلص احمدی کیلئے یہ الفاظ ایسے نہ تھے کہ ان کے بعد بھی وہ آگے بڑھ سکتا۔میں نے دیکھا کہ مولوی صاحب رُک تو گئے مگر وہ تھر تھر کانپ کی رہے تھے ، اُن کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے اور وہ کہہ رہے تھے حضور احمدی مارے گئے ہیں۔میں نے کہا اس کے تم ذمہ دار نہیں ، میں ذمہ دار ہوں۔میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ اگر میں کی مولوی رحمت علی صاحب کو اُس وقت یہ کہتا کہ جائیں اور گردن کٹوا دیں تو وہ انشراح دل سے اس بات کیلئے تیار ہو جاتے لیکن میرا یہ حکم کہ اپنی جگہ پر کھڑے رہیں اور آگے مت بڑھیں ، ان کیلئے موت سے بہت زیادہ سخت تھا لیکن جمالی زمانہ میں اسی قسم کی قربانیاں کرنی ضروری ہوتی ہیں اور بغیر ان قربانیوں کے خدا تعالیٰ کو خوش بھی نہیں کیا جاسکتا۔یہ کوئی قربانی نہیں کہ خدا تعالیٰ کہتا ہو کہ پیسہ دو اور ہم کہیں سر لے لو اور خدا کہے سردو اور ہم کہیں پیسہ لے لو۔اُس وقت اگر ہم کی اپنی ساری دولت بھی خدا تعالیٰ کے راستہ میں لٹا دیں گے تو وہ قبول نہیں ہوگی کیونکہ خدا تعالیٰ جان کا مطالبہ کر رہا ہو گا نہ کہ مال کا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں خدا تعالیٰ نے یہی کہا کہ تلواریں پکڑو اور دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان دے دو۔چنانچہ وہ گئے اور قربان ہو گئے مگر یہ قربانی بھی ایک عرصہ کے بعد اُن سے مانگی گئی۔پہلے انہیں کچ بھی یہی کہا گیا تھا کہ صبر کرو اور دشمن کے مقابلہ میں ہاتھ مت اُٹھاؤ مگر دیکھو صبر کا امتحان کتنا شدید ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی میں ایک موقع بھی ایسا نظر نہیں آتا جبکہ صحابہ نے دشمنوں سے لڑائی کرنے سے انکار کر دیا ہومگر صبر کے مواقع میں سے ایک موقع ایسا