خطبات محمود (جلد 19) — Page 151
خطبات محمود ۱۵۱ سال ۱۹۳۸ ان مطبوعہ دستاویزات سے جو شہادت میں پیش ہوئی ہیں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اشتعال اور غصہ دلانے والے رسالے شائع کئے ہیں۔جن سے ان لوگوں کی ایذا متصور ہے۔جن کے مذہبی خیالات اس کے مذہبی خیالات سے مختلف ہیں جو اثر کہ اس کی باتوں سے اس کے بے علم مُریدوں پر ہو گا اس کی ذمہ داری انہی پر ہی ہوگی اور ہم انہیں متنبہ کرتے ہیں کہ جب تک وہ زیادہ تر میانہ روی اختیار نہ کریں گے وہ قانون کی رو سے بچ نہیں سکتے۔بلکہ اس کی زد کے اندر آجاتے ہیں۔کے اس فیصلہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام معجزانہ قرار دیتے ہیں۔کیونکہ اس میں اصل الزام کو غلط قرار دیا گیا ہے۔مگر دیکھ لو کہ اس فیصلہ میں ویسے ہی لفظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں لکھے گئے ہیں کہ جیسے مقدمہ بنام عزیز احمد میں میری نسبت لکھے گئے ہیں۔بلکہ مسٹر ڈگلس کے لفظ زیادہ سخت ہیں۔کیپٹن ڈگلس نے بھی یہ لکھا ہے کہ بے علم مرید حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے دھوکا کھا سکتے ہیں اس لئے آپ کو احتیاط کرنی چاہئے۔اور ہائیکورٹ میں بھی عام واعظانہ رنگ میں یہ بات کہی ہے کہ مذہبی لیڈروں کو احتیاط کرنی چاہئے۔ہاں الفاظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کیپٹن ڈگلس نے ہائیکورٹ کے جوں سے زیادہ سخت لفظ استعمال کئے ہیں۔مگر پھر بھی مصری اور ان کے رفقاء خوش ہیں کہ مرزا محمود احمد کی ذلت ہوگئی۔اس کی اپیل مستر د ہو گئی۔اگر یہ الفاظ سخت ہیں اور ان سے ہتک ہوتی ہے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں کیا اعتقا در کھتے ہیں؟ پنجابی میں کہتے ہیں کہ ”دھی اے نی میں تینوں کواں۔نو ہیں نی تو گن رکھے “۔یعنی ماں اپنے بیٹے کے ڈر کی وجہ سے کہ وہ لڑائی کرے گا اور بیوی کی مدد کرے گا بہو کو تو کچھ نہیں کہتی بلکہ گالیاں دیتے وقت اپنی لڑکی کو مخاطب کر لیتی ہے اور دراصل اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بہو کو سنائے۔میں سمجھتا ہوں یہی حال ان لوگوں کا ہے۔اصل میں یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بدظن ہو چکے ہیں۔مگر آپ کو براہ راست گالیاں دیں تو جماعت ان سے بدظن ہو جائے اس لئے یہ لوگ ایسے امور کو سامنے رکھ کر جن میں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مشابہت ہے، مجھے