خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 150

خطبات محمود ۱۵۰ سال ۱۹۳۸ء جسمانی سزا کا ذکر نہیں کیا تو اگر وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ انہیں عام پبلک کے فائدہ کیلئے مجھے نہیں کی بلکہ سب مذہبی لیڈروں کو نصیحت کر دینی چاہئے کہ ان کیلئے احتیاط ضروری ہے تو اس میں دشمن کیلئے خوشی کا کوئی موقع نہیں۔آخر ہائیکورٹ کے حج یا حکومت کے بعض دوسرے افسر کسی موقع کے لحاظ سے اگر اظہار رائے کرنا چاہیں تو انہیں کون روک سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کسی تحریر کو پڑھ کر ایک احمدی تو کہہ دے گا کہ یہ بالکل اور حرف بحرف صحیح ہے لیکن جو شخص غیر احمدی ہے اور غیر متعصب بھی ہے وہ کسی حصہ کو صحیح اور کسی کو غلط کہے گا۔تو کیا ہم کہہ سکتے کی ہیں کہ اُس نے ہتک کی؟ ہرگز نہیں۔اسی طرح ججوں کے یہ کہنے سے میری بھی کوئی ہتک نہیں کی ہو سکتی۔سوال تو میری نیت اور ارادہ کا ہے۔اس کو انہوں نے صاف کر دیا ہے۔وہ تو یہ کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ کوئی جاہل اس سے یہ مطلب لے لے اس لئے صرف مجھے نہیں بلکہ ہندوستان کی میں عام طور پر مذہبی لیڈروں کو احتیاط کرنی چاہئے۔دشمن تو اِن الفاظ کی وجہ سے مجھ پر اعتراض کی کرتا ہے مگر میں بتا تا ہوں کہ اس سے تو میری حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک اور مشابہت پوری ہوگئی ہے۔جس طرح مجھ پر مصری نے اعانت قتل کا مقدمہ دائر کیا ، حضرت مسیح موعود کی علیہ السلام پر بھی ایسا مقدمہ کیا گیا تھا۔میری نسبت کہا گیا ہے کہ میں نے ایسی تقریر کی جس کے نتیجہ میں قتل ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت کہا گیا تھا کہ آپ نے ایک آدمی بھیجا ہے کہ فلاں شخص کو قتل کر آؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مقدمہ کا ذکر اپنی کتاب کتاب البریہ میں کیا ہے اور اس کے آخر میں اس مقدمہ کی روئیداد اور پھر فیصلہ درج کر دیا کی ہے اور اسے اپنا معجزہ اور انگریزی انصاف کا نمونہ قرار دیا ہے اور آج تک جماعت احمد یہ بھی اسے معجزہ کے طور پر شائع کرتی آئی ہے۔اور جس افسر نے یہ فیصلہ کیا تھا اسے آج تک عزت کی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ولایت میں ہمیشہ پارٹیوں پر اُسے بلایا جاتا ہے۔اس فیصلہ کے آخر میں اس حج نے جسے انگریزی زمانے کا پیلاطوس بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کہا جاتا ہے، یہ الفاظ ھے ہیں: ہم اس موقع پر مرزا غلام احمد کو بذریعہ تحریری نوٹس کے جس کو انہوں نے خود پڑھ لیا اور اس پر دستخط کر دیئے ہیں ، باضابطہ طور پر متنبہ کرتے ہیں کہ