خطبات محمود (جلد 18) — Page 87
خطبات محمود AL سال ۱۹۳۷ء بھی توجہ دلائی جائے۔امانت فنڈ کی طرف بھی توجہ دلائی جائے۔قادیان میں مکانات بنانے کی طرف بھی توجہ دلائی جائے۔شادی بیاہ کے اخراجات میں کفایت کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی جائے۔بیکاری سے بچنے کی طرف بھی توجہ دلائی جائے۔ہر چھوٹا بڑا کام اپنے ہاتھ سے کرنے کی طرف کی بھی توجہ دلائی جائے۔وقف زندگی کی تحریک کی طرف بھی توجہ دلائی جائے۔غیر ممالک میں نکل جانے کی کی تحریک کی اہمیت بھی ان پر واضح کی جائے اور دعاؤں سے کام لینے کی بھی تاکید کی جائے۔غرض تحریک جدید کے جس قدر حصے ہیں اُن سب کی طرف جماعت کے احباب کو توجہ دلائی جائے اور چاہئے کہ وہ دوست جو اخلاص رکھتے ہیں آج ہی سے تحریک جدید کے متعلق میرے گزشتہ تمام خطبات نکال کر اپنے سامنے رکھ لیں اور ان کا خلاصہ اپنے الفاظ میں انفرادی اور اجتماعی طور پر دوستوں تک پہنچا نا شروع کی کر دیں اور ابھی سے تحریک جاری کر دیں یہاں تک کہ جب جلسوں کا دن آئے تو اُس دن تک جماعت کے خفتہ اصحاب بھی بیدار ہو چکے ہوں اور وہ تحریک جدید کے مطالبات میں عملی سرگرمی سے حصہ لینے کیلئے تیار ہوں۔پھر اس سال چونکہ تحریک جدید کا تیسرا سال ختم ہو رہا ہے اس لئے ہمیں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کرنی چاہئے کہ وہ ہماری ان تین سالہ قربانیوں کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنے فضل سے مزید قربانیوں کی توفیق دے میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ عقائد کا اکثر حصہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم نے اپنے اشد معاندین سے بھی تسلیم کرالیا ہے اور دشمن بھی رفتہ رفتہ وہی عقائد اختیار کر رہے ہیں جو ہمارے ہیں۔لیکن عملی حصہ ہما را کمزور ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی مانگنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں ایسی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اعمال کے لحاظ سے بھی دنیا کیلئے نمونہ ہوں اور ہم ساری دنیا پر ثا بت کر سکیں کہ تمام مذاہب میں سے اسلام کی تعلیم ہی قابل عمل ہے۔وہ ایک مضبوط چٹان ہے جسے کوئی ہلا نہیں سکتا۔وہ ایک برسنے اور دنیا پر چھا جانے والا بادل ہے جس کی زد سے دنیا کی کوئی زمین نہیں بچ سکتی اور ود سورج ہے جس کی شعاعیں ساری دنیا میں پھیل جاتی اور سوائے ان گھروں کے جن کے رہنے والوں نے اپنے ہاتھوں سے اُس کی کھڑکیاں اور دروازے بند کر رکھے ہوں سب کو روشن کر دیتی ہیں۔حتی کہ بار یک سوراخ بھی ہو تو وہاں اس کی روشنی پہنچ جاتی ہے۔لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے جب ہم ا۔اپنے