خطبات محمود (جلد 18) — Page 672
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء دوسروں کی بھی کیونکہ مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ جس نے اپنی ذات کو نہیں پہچانا اس نے خدا کوی بھی نہیں پہچانا۔اور جس نے اپنی ذات کو پہچان لیا اس نے خدا کو بھی پہچان لیا۔جس نے یہ سمجھا کہ میں گندہ ہوں اور خدا تعالیٰ کو نہیں مل سکتا وہ چونکہ اپنے آپ پر اور اپنے خدا پر بدظنی کرتا ہے اس لئے واقعہ کی میں اس کی محبت سے محروم رہتا ہے۔مگر وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ ہر شخص کو خدا تعالیٰ نے اسی لئے بنایا ہے کہ اس کی رضا کا وارث ہو اور اس کی محبت کا حامل ، اسے خدا تعالی بہر حال مل جاتا ہے۔پس انسان کو کی چاہئے کہ اپنے متعلق اور دوسرے لوگوں کے متعلق بدظنی کے مرض کو دور کرے اور اپنے اندر ایک یقین اور وثوق پیدا کرے۔تب ہی اس کے اندر اُمنگیں پیدا ہوں گی اور تب ہی یہ لوگوں کی اصلاح کے کام میں کامیاب ہوگا اور اگر یہ نہ ہو تو انسان کی تمام کوششیں رائیگاں اور فضول چلی جاتی ہیں۔الفضل ۲ /جنوری ۱۹۳۸ ء ) الاعلى: ١٠ ۳۲ بخاری کتاب الجنائز باب ماقيل فى اولاد المشرکین میں یہ الفاظ ہیں۔کل مولود IN يولد على الفطرة فابواه يهودانه اوينصرانه اويمجسانه الخ مسلم كتاب التوبة باب قبول التوبة۔۔۔۔۔اع مسلم کتاب الايمان باب كون الاسلام يهدم ما قبله۔۔۔۔۔الخ موضوعات ملاعلی قاری صفحہ ۷۲ مطبوعہ دھلی ۱۳۴۶ھ سیرت ابن هشام جلد اصفحه ۳۶۶ تا ۳۷۱ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء الحديد: ۱۷ شرح مواهب اللدنيه جلد ۲ صفحه۵۳۰ مطبوعہ بیروت ۱۹۹۶ء