خطبات محمود (جلد 18) — Page 671
خطبات محمود ۶۷۱ سال ۱۹۳۷ء کو جاگتے دیکھا تو تلوار سونت کر کہنے لگا بتا اب تجھے کون بچا سکتا ہے؟ رسول کریم ﷺ نے لیٹے لیٹے ایک اطمینان اور یقین سے فرمایا کہ اللہ۔اللہ کا لفظ لوگ ہزاروں دفعہ استعمال کرتے ہیں مگر کون ہے جس کے الفاظ میں وہ اثر ہو جو رسول کریم ﷺ کے الفاظ میں تھا۔آپ نے جس یقین اور وثوق سے یہ لفظ استعمال کیا ، وہ تلوار سے زیادہ تیزی کے ساتھ اس کے دل میں اتر گیا۔اور اس کا ایسا اثر اس پر پڑا کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔رسول کریم ﷺ نے فور اوہ تلوار اُٹھ کر پکڑ لی اور پھر اُس کے سر پر تلوار کھینچ کر فرمایا بتا اب تجھے کون بچا سکتا ہے؟ اس نے جواب دیا آپ ہی رحم کریں تو کریں۔آپ نے فرمایا اے نادان ! تُو نے پھر بھی سبق حاصل نہ کیا۔کم از کم مجھ سے سن کر ہی تو یہ کہہ دیتا ہے اللہ مجھے بچائے گا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یا تو وہ رسول کریم ﷺ کو قتل کرنے کیلئے آیا تھا اور یا وہیں مسلمان ہو گیا۔تو دل سے نکلی ہوئی جو بات ہو اس کا رنگ بالکل اور قسم کا ہوا کرتا ہے لیکن اگر کسی کو اپنی بات پر ہی یقین نہ ہو تو اس نے اثر کیا کرنا ہے۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک قوم میں سے صرف ایک بہادر آدمی اُٹھتا اور ساری قوم کو زندہ کر دیتا ہے۔لیکن کئی آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے مگر جب گھر سے نکلتے ہیں تو ایک قدم ان کا آگے اُٹھتا ہے اور ایک پیچھے۔ایسے آدمیوں کا اپنی قوم میں کوئی اثر نہیں ہوتا بلکہ لوگ انہیں ذلیل اور حقیر سمجھتے ہیں۔پس كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ و صحیح تسلیم کرتے ہوئے فطرتِ انسانی پر انسان کو بھی بدگمانی نہیں کرنی چاہئے۔یہ امر اچھی طرح یا درکھو کہ ہر قوم میں نیکی پائی جاتی ہے۔نیکی پر تمہارا کوئی ٹھیکہ نہیں۔ہاں کامل ہدایت بیشک تمہار۔سواء اس وقت کسی اور کے پاس نہیں مگر فطرتی نیکی سے نہ ایک ہند ومحروم ہے، نہ سکھ محروم ہے، نہ عیسائی محروم ہے، نہ یہودی محروم ہے۔یہی چیز ہے جو انسان کو ہدایت کی طرف لاتی ہے۔اور فطرتی نیکی کا انسان کے ساتھ ایسا ہی تعلق ہے جیسے انسان کے ساتھ اس کے پیروں کا۔پیر جب چلتے ہیں تب تم اپنے کی کسی رشتہ دار یا دوست سے مل سکتے ہو۔نہ چلیں تو نہیں مل سکتے۔اسی طرح فطرتی نیکی ہی ہے جو کامل ہدایت تک پہنچاتی ہے یہ نہ ہو تو کامل ہدایت کسی انسان کو نہ مل سکے۔پس بے شک خدا تعالیٰ کی کامل اور حقیقی محبت تمہارے دلوں میں ہی ہے مگر اس کی محبت کی جو جستجو اور تڑپ ہے۔وہ ہر ایک شخص کے دل میں پائی جاتی ہے۔پس اپنے آپ پر بھی بدظنی نہ کرو اور دوسروں پر بھی بدظنی نہ کرو۔اور یا درکھو کہ اگر تم اس نکتہ کو سمجھ جاؤ تو تم اپنی بھی اصلاح کر لو گے اور۔