خطبات محمود (جلد 18) — Page 665
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء دیکھی ہے مگر میں نے ان لوگوں میں روحانیت نہیں دیکھی جو بیکار بیٹھے رہتے ہیں اور ہا ہا ہو ہو کر رہے اور لوگوں پر ہنسی اور تمسخر اڑا رہے ہوتے ہیں۔بلکہ جرم کرنے والوں میں احساس گناہ اور احساسِ ندامت زیادہ ہوتا ہے جیسے بعض عبادت کرنے والوں میں کبر پیدا ہو جاتا ہے۔مگر یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں۔دنیا میں ہر گنہگار میں احساسِ ندامت نہیں ہوتا جیسے ہر عابد میں کبر نہیں ہوتا۔یہ صرف بعض لوگوں کی قسمیں ہیں۔کبر بہر حال روحانیت ایک وسیع چیز ہے اور میرے نزدیک ناوے فیصدی لوگوں میں پائی جاتی ہے۔صرف وی ایک فیصدی وہ لوگ ہیں جن پر دنیا داری کامل طور پر چھائی ہوئی ہوتی ہے اور روحانیت کے حصول کی کوئی خواہش ان کے دلوں میں نہیں ہوتی۔مگر ایسے آدمی جیسا کہ میں بتا چکا ہوں بہت کم ہوتے ہیں۔حتی کہ دہر یہ بھی ایسے نہیں ہوتے۔دہر یہ انسان ایک خاص عمر میں ہوتا ہے۔مگر پھر جوں جوں اس کی عمر بڑھتی جاتی ہے اس کی دہریت بھی کم ہوتی جاتی ہے۔چنانچہ جن دہریوں سے مجھے ملنے کا اتفاق ہوا ہے ان میں ایک بھی ایسا نظر نہیں آیا جو چند سال گزرنے کے بعد اپنی دہریت پر قائم رہا ہو۔ایک نو جوان شخص جو ہندوستانی تھا ولایت میں مجھے ملا۔وہ اُس وقت دہریت پر اتنا یقین اور وثوق رکھتا تھا کہ ہر وقت خدا تعالیٰ کے وجود پر ہنسی اور تمسخر اڑا تا رہتا تھا اور اُس کی دین سے بے بہر گی کی یہ کیفیت تھی کہ وہ ایک دفعہ کہنے لگا ہندوستانی اتنے بیوقوف ہوتے ہیں ، اتنے بیوقوف ہوتے ہیں کہ اب مجھے اپنے آپ کو تی ہندوستانی کہتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔اس پر ہندوستانیوں کی حماقت کی جو مثال اس نے مجھے سنائی وہ میں آپ لوگوں کو بھی بتا تا ہوں۔اس سے آپ سمجھ سکیں گے کہ اس کی دینی حالت کیا تھی۔وہ کہنے لگا ہم چند ہندوستانی دوست جب پہلے پہل تعلیم کیلئے ولایت آئے اور مارسیلز میں اُترے تو ایک دوست نے کہا یہاں ایک میوزیم ہے ، چلو دیکھ لیں۔چنانچہ ہم سب میوزیم دیکھنے کیلئے چلے گئے۔مگر تھوڑی دیر کے بعد ہی ہم وہاں سے ہاہا ہی ہی کرتے اور اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بھاگے۔میں نے کہا کیا ہوا؟ کہنے لگا وہاں نگی تصویر یں تھی جنہیں ہم دیکھتے ہی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر بھاگے۔مگر اب یہ حالت ہے کہ ننگی عورتیں دیکھ کر بھی ہمارے دل میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوتا۔گویا اس نے بتایا کہ جب ہم ہندوستان سے آئے تھے تو اتنے جاہل تھے ، اتنے جاہل تھے کہ منگی تصویر میں بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔حالانکہ تہذیب کا کمال یہ ہے کہ انسان ننگی عورتوں کو دیکھے تو اس کی آنکھ تک نہ جھپکے۔یہ اس کے نزدیک تہذیب کی اور شرافت کا معیار تھا۔مگر دس بارہ سال کے بعد وہ ایک دفعہ مجھے ہندوستان میں ملا، اُس وقت وہ ایک