خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 660 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 660

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء زمانہ وہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کوئی آدمی نہ تھا۔پھر وہ وقت آیا جب آپ کے ساتھ ہزاروں آدمی تھے اور اب تو لاکھوں تک پہنچ گئے ہیں۔پھر کسی زمانہ میں پنجاب میں بھی کوئی شخص آپ کا معتقد نہ تھا۔اور اب نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا کے تمام براعظموں میں احمدی پھیل گئے ہیں۔اگر یہ سچ بات ہے کہ دنیا نہیں مانتی تو پھر اتنے لوگ کہاں سے آگئے۔یہیں دیکھ لو اچھے لوگ اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہیں، ان میں سے کتنے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی زمانہ میں پ پر ایمان لائے۔میں سمجھتا ہوں اس مجمع میں بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شکل دیکھی۔زیادہ تر وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی تصویر دیکھی۔پھر کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے شکل تو دیکھی مگر آپ کی صحبت میں بیٹھنے کا انہیں موقع نہ ملا۔اور بہت قلیل ایسے لوگ ہیں جو غالباً در جنوں سے بڑھ نہیں سکتے جنہوں نے آپ کی باتیں سنیں اور آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھانے کا انہیں موقع ملا۔مگر آخر یہ لوگ کہاں سے آئے۔میری پیدائش اور بیعت قریباً ایک ہی وقت کی سے چلتی ہے اور جب میں نے کچھ ہوش سنبھالا اُس وقت کئی سال تبلیغ پر گزر چکے تھے لیکن مجھے اپنے ہوش کے زمانہ میں یہ بات یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب سیر کیلئے نکلتے تو صرف حافظ حامد علی صاحب ساتھ ہوتے۔ایک دفعہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اسی طرف سیر کیلئے آنا یاد ہے۔میں اُس وقت چونکہ چھوٹا بچہ تھا اس لئے میں نے اصرار کیا کہ میں بھی سیر کیلئے چلوں گا۔اُس زمانہ کی میں یہاں جھاؤ کے پودے ہوا کرتے تھے اور یہ تمام علاقہ جہاں اب تعلیم الاسلام ہائی سکول ، بورڈنگ کی اور مسجد وغیرہ ایک جنگل تھا اور اس میں جھاؤ کے سوا اور کوئی چیز نہ ہوا کرتی تھی۔حضرت مسیح موعود کی علیہ الصلوۃ والسلام اسی طرف سیر کیلئے تشریف لائے اور میرے اصرار پر مجھے بھی ساتھ لے لیا۔مگر تھوڑی دور چلنے کے بعد میں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ میں تھک گیا ہوں۔اس پر کبھی مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُٹھاتے اور کبھی حافظ حامد علی صاحب اور یہ نظارہ مجھے آج تک یاد ہے۔تو وہ ایسا کی زمانہ تھا کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوی تھا مگر آپ کو ماننے والے بہت قلیل لوگ تھے اور قادیان میں آنے والا تو کوئی کوئی تھا لیکن آج یہ زمانہ ہے کہ ہمیں بار بار یہ اعلان کرنا پڑتا ہے کہ قادیان میں ہجرت کر کے آنے سے پیشتر لوگوں کو چاہئے کہ وہ اجازت لے لیں اور اگر کوئی بغیر اجازت کے یہاں ہجرت کر کے آئے تو اسے واپس جانے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ اب آبادی خدا تعالیٰ کے