خطبات محمود (جلد 18) — Page 659
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء تو بہ قبول کرنے سے انکار کرتے رہے اور وہ ہر ایک کو قتل کرتا گیا۔آخر لوگوں نے اسے کہا کہ تو تو بہ کیلئے گھر سے نکلا ہے مگر قتل کر کے اور بھی گنہگار ہوتا جاتا ہے۔وہ کہنے لگا میں تو تو بہ کرتا ہوں مگر لوگ کہتے ہیں تیرے لئے تو بہ کا دروازہ بند ہے۔اس لئے میں غصہ میں آکر انہیں بھی قتل کر دیتا ہوں۔آخر لوگوں نے اُسے کہا کہ فلاں علاقہ میں ایک شخص ہے تو اُس کے پاس جا امید ہے کہ وہ تیری توبہ قبول کر لے گا۔جب وہ چلا تو ابھی وہ راستہ میں ہی تھا کہ اُس کی جان نکل گئی۔اس پر ملائکہ رحمت اور ملائکہ عذاب کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا۔ملائکہ عذاب نے کہا کہ ہم اس کی روح دوزخ میں لے جائیں گے کیونکہ یہ گنہگار تھا۔مگر ملائکہ رحمت کہتے کہ یہ تو بہ کرنے کیلئے جار ہا تھا پس ہم اسے جنت میں لے جائیں گے۔آخر اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ معاملہ پیش ہوا کہ کس کی بات صحیح ہے اور اس شخص کے متعلق کیا فیصلہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم یہ دیکھو کہ وہ اس مقام کے زیادہ قریب ہے جہاں تو بہ کرنے جارہا تھا یا اس مقام کے زیادہ قریب ہے جہاں سے وہ گناہ کر کے نکلا تھا۔جب ملائکہ ان جگہوں کو ماپنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اُس راستہ کو جو تو بہ کا تھا چھوٹا کر دیا مگر اُس راستہ کو جو گناہ والا تھا لمبا کر دیا اور فرمایا کہ چونکہ یہ تو بہ کے مقام کے زیادہ قریب ہے اس لئے اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے، اسے جنت میں لے جایا جائے۔کے اس حدیث کے یہ معنے نہیں کہ خدا تعالیٰ اور اس کے ملائکہ کے درمیان ضرور اس قسم کی باتیں ہوئی ہوں۔یہ اصطلاحی الفاظ ہوتے ہیں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص گنا ہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے مر جاتا ہے تو ملائکہ تر ڈو میں پڑ جاتے ہیں۔ملائکہ تو احکام الہی کی اطاعت کیا کرتے کی ہیں تر و د کا مفہوم صرف یہ ہے کہ جس وقت کوئی جان تو بہ کی کوشش کرتے ہوئے نکلتی ہے اور بظاہر حقیقی تو بہ اُسے نصیب نہیں ہوتی تو ملائکہ میں ایک اضطراب سا پیدا ہوتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو جنت کا مستحق ہے دوزخ کا نہیں اور پھر خدا تعالیٰ بھی انہی کی تائید کرتا ہے۔غرض انسان جب اپنی فطرت سے مایوس ہو جاتا ہے تو گناہ میں بڑھ جاتا ہے۔اور جب دوسروں سے مایوس ہو جاتا ہے تو تبلیغ میں سُست ہو جاتا ہے۔کئی لوگ ہیں جو میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں حق تو یہی ہے مگر لوگ مانتے نہیں۔میں ہمیشہ ان سے کہتا ہوں کہ اگر لوگ واقعہ میں نہیں مانتے تو ی ہماری جماعت میں جولوگ نئے داخل ہوتے ہیں یہ کہاں سے آتے ہیں۔اگر لوگ اتنے ہی سنگدل اور ان حقیقت سے بے بہرہ ہو گئے ہیں کہ وہ سچائی کی باتیں سنتے ہیں مگر مانتے نہیں۔تو سوال یہ ہے کہ ایک