خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 64

خطبات محمود ۶۴ سال ۱۹۳۷ء کر دے تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ نماز کا پابند ہے اور اس نیکی کے ذریعہ ربوبیت عالمین کی صفت ظاہر کر رہا ہے۔یا مثلاً ایک شخص کسی کسی وقت غریبوں پر رحم کر دیتا ہے اور کبھی اس بات کو چھوڑ بھی دیتا ہے، کبھی لوگوں کی مصیبتیں اُس کے دل میں درد پیدا کرتی ہیں اور کبھی وہ اس کے دل پر کوئی اثر نہیں ڈالتیں تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس نے ربوبیت عالمین کی صفت ظاہر کی ہے۔اس کے رحم کو ہم کمزوری سمجھیں گے اور ی نیکی قرار نہیں دیں گے۔لیکن اگر ایک شخص ہمیشہ اپنے دل میں لوگوں کیلئے رحم محسوس کرتا ہے اور دوسروں کیلئے قربانی کی روح اس میں کبھی سرد نہیں ہوتی تو ہم سمجھیں گے کہ یہ شخص واقعہ میں نیک ہے اور رَبِّ العلمین کی صفت کا مظہر ہے۔یا مثلاً ایک شخص ایک وقت میں دین کیلئے نکل کھڑا ہوتا ہے اور زمانہ ، جہاد میں جہاد کے ذریعہ اور زمانہ تبلیغ میں تبلیغ کے ذریعہ اپنی جان کو خدا تعالیٰ کی راہ میں ہلکان کرنے کیلئے آمادہ رہتا ہے۔کبھی تو اس کے اعمال میں ایک جوش اور فدائیت ظاہر ہوتی ہے اور کبھی وہ ان کاموں کو چھوڑ کر خاموشی سے اپنے گھر میں بیٹھ جاتا ہے۔خدا کی آواز بلند ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کے فرشتوں کی پکار اونچی ہوتی چلی جاتی ہے اور اُس کے بندوں کی ندا ئیں جو کو بھر دیتی ہیں مگر اس کے دل میں کوئی حرکت ہی پیدا نہیں ہوتی۔گویا اس کیلئے جہاد اور تبلیغ بے معنے الفاظ ہیں اور اس کو ان میں کوئی لذت ہی نہیں ملتی تو ہی کس طرح ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ایسے شخص نے جب جہاد کے وقت میں جہاد کیا تھا یا تبلیغ عام کے وقت میں تبلیغ کی تھی اُس وقت اس نے یہ کام نیکی سمجھ کر کئے تھے۔کیونکہ اگر واقعہ میں وہ انہیں نیکی سمجھتا تو اب کیوں خاموش رہتا اور کیوں اس کے دل میں آج وہی آوازیں سن کر پھر جوش نہ پیدا ہو جاتا۔ہم تو یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ جس وقت اُس نے وہ کام کئے تھے کسی عارضی جوش یا خود غرضی یا کسی دھوکا کے کی ماتحت کئے تھے۔لیکن اگر اس کے خلاف ایک دوسرا شخص ہر زمانہ اور ہر وقت اور ہر حالت میں جب خدا اور اس کے مقرر کردہ بندوں کی آواز سنتا ہے تو فوراً قربانی اور ایثار کیلئے کھڑا ہو جاتا ہے اور اگر جہاد کا وقت ہو تو امام کے آگے پیچھے، دائیں بائیں لڑنے کیلئے تیار رہتا ہے۔اور اگر تبلیغ کا وقت ہو تو نکل کھڑا ہوتا ہے۔تو ایسے شخص کے متعلق ہم مجبور ہوں گے کہ ایمان رکھیں اور یقین کریں کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت عالمین کا مظہر ہے اور ہر زمانہ میں بادی ہونا اُس کی روح کی غذا بن گیا ہے اور اسی طرح اور نیکیوں کا حال ہے کہ ان کے متعلق اگر استقلال کے ساتھ کوئی شخص قائم ہوتا ہے تو ہم اُس کو واقعہ میں نیک کہہ سکتے ہیں۔لیکن اگر استقلال کے ساتھ ان پر قائم نہیں ہوتا یا لوگوں کو دھوکا دیتا ہے تو ایسا شخص ہرگز