خطبات محمود (جلد 18) — Page 63
خطبات محمود ۶۳ سال ۱۹۳۷ء پس مومن کو ہمیشہ ان چار صفات کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ آیا وہ کس حد تک ان صفات کا مظہر بننے میں کامیاب ہو سکا ہے۔میں صرف پہلی صفت کو ہی اس وقت لیتا ہوں اور اس کے بھی صرف چند پہلو بیان کر کے اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ کیا واقعہ میں ربوبیت عالمین کی صفت ان میں پیدا ہو چکی ہے۔ربوبیت عالمین میں جن باتوں کا اظہار کیا گیا ہے ان میں سے ایک دوام ہے۔رب العلمین بتاتا ہے کہ وہ رب تھا اور ربّ ہے اور وہ رب رہے گا۔جو چیز کسی وقت بھی ربوبیت کی میں ناغہ کرتی ہے وہ رَبِّ العلمین نہیں کہلا سکتی کیونکہ ناغہ کا وقت اُس کی ربوبیت سے خارج ہو جاتا ہے اور رب العلمین ہونے کیلئے یہ ضروری ہے کہ کوئی چیز اور کوئی وقت بھی اس کی ربوبیت سے خالی نہ ہو۔پس رَبِّ العالمین کی صفت ہم کو اپنے اعمال میں دوام کی طرف توجہ دلاتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ اپنی ایک بیوی سے فرمایا کہ اچھی عبادت وہ ہے جو اَدْوَمُهَا ہے ہو یعنی نیکیوں میں سے اور عبادتوں میں سے پائیدار ہو ، جس میں ناغہ نہ کیا جائے اور جسے چھوڑا نہ جائے الله اور جو ہمیشہ کیلئے انسان کے اعمال کا نجو و ہو جائے۔یہ در حقیقت رسول کریم ﷺ نے رَبّ العالمین کی صفت کی ایک تشریح فرمائی اور متوجہ کیا کہ عبادت اور نیکی بھی نیکی ہوسکتی ہے جبکہ انسان اُس کو دائمی طور پر اختیار کرے اور گویا اس طرح آپ نے ربوبیت عالمین کی صفت پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی اور اس کی میں کیا شبہ ہے کہ جس چیز کو انسان کبھی لے لیتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے ہم کبھی تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ اس کو اچھا سمجھتا ہے۔کیونکہ اگر وہ اسے فی الحقیقت اچھا سمجھتا تو اسے چھوڑتا کیوں۔جس وقت کیلئے وہ اسے اختیار کرتا ہے اس کے متعلق ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ لوگوں کی نقل کر رہا تھا یا ایک عارضی جذ بہ کے نیچے اس کی روح دب گئی تھی یا یہ کہ وہ نفاق کے طور پر ایسا کام کر رہا تھا۔لیکن جب کوئی شخص ایک چیز کو کلی طور پر اختیار کر لیتا ہے اور اسے کبھی نہیں چھوڑتا تو اس چیز کے متعلق ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ یا تو اسے نیکی سمجھ کر اختیار کر رہا ہے یا عادتوں کے ماتحت اس کے ظلم کا شکار ہو رہا ہے اور اس کے مقابلہ کی اس میں طاقت نہیں ہے۔غرض یا تو وہ اسے نیکی سمجھ کر اس سے محبت کرتا ہے یا اس چیز کا قیدی ہے کہ باوجود آزادی کی خواہش کے آزاد نہیں ہو سکتا اور یہ آخری بات ایسی نہیں کہ اس کا اس شخص یا دوسروں کو پتہ نہ لگ سکے۔پس ربوبیت عالمین انسان کی انہی صفات سے ظاہر ہوتی ہے جن کو وہ دائمی طور پر اختیار کر لیتا ہے اور جن میں وہ کبھی ناغہ نہیں ہونے دیتا۔ایک شخص جو نماز کا پابند ہوتا ہے اگر وہ کبھی کبھی بیچ میں ناغہ۔