خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 623 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 623

خطبات محمود ۶۲۳ سال ۱۹۳۷ء شخص تیار نہیں ہوتا اسی طرح ایسے مکانات میں رہنے کیلئے بھی کوئی با غیرت مومن تیار نہیں ہوسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی چیز بُری نہیں ہوتی بلکہ اس چیز کو جو نا واجب اہمیت دی جاتی ہے وہ اسے بر ابنا دیتی ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی شخص اپنے بچے کو علم سکھائے۔اب علم سکھا نابُرا کام نہیں لیکن اگر وہ اسے علم سکھاتا ہے اور پھر اسے سنبھال کر گھر میں رکھ لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے دین یا اس کی مخلوق کی ہمدردی اور فائدہ کے لئے قربانی کرنے سے اس لئے روکتا ہے کہ اس قدر محنت کے بعد میرا بچہ ضائع نہ ہو جائے ، تو وہ ایک بُرا کام کرتا ہے۔لیکن اگر وہ اسے علم سکھا کر اس لئے لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے تا وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو علم سکھائے اور انہیں دین سے واقف کرے اور دین کیلئے ہر قسم کی قربانیوں میں حصہ لے تو یہی علم اس کیلئے برکت کا موجب بن جائے گا۔اسی طرح اگر کوئی شخص اس لئے کی یہاں مکان بنا تا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے وَسِعُ مَكَانَكَ کے اپنے مکانات کو وسیع کرو۔تو وہ ان برکات سے حصہ لیتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قادیان سے مخصوص کی ہیں۔لیکن اگر کوئی شخص اس نیت سے مکان نہیں بناتا بلکہ اپنی شان اور اپنی عظمت کے اظہار کیلئے ایک مکان بنادیتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کیلئے پیش کرنے سے ہچکچاتا ہے۔تو وہ مکان اس کیلئے برکت کا نی موجب ہر گز نہیں ہوسکتا۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو یہ الہام ہوا ہے کہ وَسَ مگانک مگر اس کا کیا سبب ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ کی خرابی کا وقت وہ ہو گا جب اس کی میں بڑے بڑے مکانات بن جائیں گے۔سو اس کی وجہ یہی ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے مکانوں کی وسعت کا حکم دیا تو ان مکانوں سے وہ مکان اس نے مراد لئے جو خدمت دین کیلئے بنائے جائیں جن کو پیش کرتے وقت انسان یہ نہ کہے کہ دیکھنا ! مکانوں پر میل نہ لگ جائے ، دیکھنا ! فرش پر گرد نہ پڑ جائے، دیکھنا ! دیواروں پر کوئی تھو کے نہیں۔مگر جب رسول کریم اللہ نے کی یہ خبر دی کہ مدینہ اس وقت خراب ہو گا جب اس میں بڑے بڑے مکانات بن جائیں گے تو ان مکانات سے وہ مکانات مراد تھے جن میں دین کا کوئی حصہ نہ تھا اور جنہیں ان کے مالکوں نے خدمت دین کیلئے پیش کرنے کی بجائے اپنے ذاتی آرام و آسائش کیلئے وقف کر لینا تھا۔پس یہ دونوں باتیں الگ الگ مکانات کیلئے ہیں۔جو مکانات خدا تعالیٰ کے دین کی ضروریات کے لئے وقف کر دئیے جائیں اور جن کی