خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 617

خطبات محمود ۶۱۷ سال ۱۹۳۷ء اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جلدی سے جانے کیلئے جو وسائل سفر ہیں وہ اتنا خرچ چاہتے ہیں کہ بیرونی ممالک کے احمدیوں کیلئے ان ایام میں قادیان پہنچنا مشکل ہے۔لیکن اگر کسی زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے بڑے مالدار ہماری جماعت میں شامل ہو جائیں یا سفر کے جو اخراجات ہیں ان میں بہت کچھ کمی ہو جائے اور ہر قسم کی سہولت لوگوں کو میسر آجائے تو دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ اس موقع پر آئیں گے۔اگر کسی وقت امریکہ میں ہماری جماعت کے مالدار لوگ ہوں اور وہ آمد و رفت کیلئے روپیہ خرچ کر سکیں تو و حج کے علاوہ ان کیلئے یہ امر بھی ضروری ہوگا کہ وہ اپنی عمر میں ایک دو دفعہ قادیان بھی جلسہ سالانہ کے موقع پر آئیں۔کیونکہ یہاں علمی برکات میسر آتی ہیں اور مرکز کے فیوض سے لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں اور میں تو یقین رکھتا ہوں کہ ایک دن آنے والا ہے جبکہ دور دراز ممالک کے لوگ یہاں آئیں گے۔چنانچہ حضرت کی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک رؤیا ہے جس میں آپ نے دیکھا کہ آپ ہوا میں تیر رہے ہیں اور فرماتے ہیں عیسی تو پانی پر چلتے تھے اور میں ہوا پر تیر رہا ہوں اور میرے خدا کا فضل ان سے بڑھ کر مجھ پر ہے، لیے اس رویا کے ماتحت میں سمجھتا ہوں وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جس طرح قادیان کے جلسہ پر کبھی یکے سڑکوں کو گھسا دیتے تھے اور پھر موٹریں چل چل کر سڑکوں میں گڑھے ڈال دیتی تھیں اور اب ریل سواریوں کو کھینچ کھینچ کر قادیان لاتی ہے، اسی طرح کسی زمانہ میں جلسہ کے ایام میں تھوڑے تھوڑے وقفہ پر یہ خبریں بھی ملا کریں گی کہ ابھی ابھی فلاں مُلک سے اتنے ہوائی جہاز آئے ہیں۔یہ باتیں دنیا کی نظروں میں عجیب ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں عجیب نہیں۔خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنے دین کیلئے مکہ اور مدینہ کے بعد قادیان کو مرکز بنانا چاہتا ہے۔مکہ اور مدینہ وہ دو مقامات ہیں جن سے رسول کریم ہے کی ذات کا تعلق ہے۔آپ اسلام کے بانی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آقا اور استاد ہیں۔اس لحاظ سے ان دونوں مقامات کو قادیان پر فضیلت حاصل ہے۔لیکن مکہ اور مدینہ کے بعد جس مقام کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کا مرکز قرار دیا ہے وہ وہی ہے جو رسول کریم ہے کے کل یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے اور جو اس وقت تبلیغ دین کا واحد مرکز ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آجکل مکہ اور مدینہ جو کسی وقت با برکت مقام ہونے کے علاوہ تبلیغی مرکز بھی تھے آج وہاں کے باشندے اس فرض کو بھلائے ہوئے ہیں۔لیکن یہ حالت ہمیشہ نہیں رہے گی۔مجھے یقین ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان علاقوں میں احمدیت کو قائم کرے گا تو پھر یہ مقدس مقامات اپنی اصل شان و شوکت کی طرف کو ٹائے