خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 616

خطبات محمود ۶۱۶ سال ۱۹۳۷ء جماعت میں بہت کم ہیں یا حقیقتا بالکل ہی نہیں۔ہماری جماعت کا بیشتر حصہ اس وقت ہندوستان میں ہے اور اس میں سے بھی زیادہ تر مردوں کی ایک تعداد ہے جو جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان پہنچ سکتی ہے۔پس جو پہنچ سکتے ہیں انہیں یا درکھنا چاہئے کہ ساری جماعت کی طرف سے اُن پر ایک خاص ذمہ داری ہے جسے ادا کرنے کی کوشش ان کا اولین فرض ہے۔اور یہ کہ جبکہ ساری جماعت اس موقع پر نہیں پہنچ سکتی تو ہر علاقہ کے مردوں، عورتوں اور بچوں میں سلسلہ کی روح کو زندہ رکھنے کیلئے جو پہنچ سکتے ہیں انہیں سو کام کا ن حرج کر کے بھی آنا چاہئے تا ان کا آنا دوسروں کے نہ آ سکنے کے نقصان کا ازالہ کر دے۔دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ترقی کے شروع ہونے پر سست ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں اب جماعت بہت ہوگئی۔ایسے لوگوں کو میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہر وہ شخص جس کیلئے جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان پہنچنا ممکن ہے اگر یہاں آنے میں کوتا ہی کرتا ہے تو اس کا لازمی اثر اس کے ہمسایوں اور اس کی اولاد پر پڑے گا۔میں نے دیکھا ہے جو دوست سال بھر میں ایک دفعہ بھی جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان آجاتے ہیں اور اپنے اہل و عیال کو ہمراہ لاتے ہیں ان کی اولادوں میں احمدیت قائم رہتی ہے اور گوان بچوں کو احمدیت کی تعلیم سے ابھی واقفیت نہیں ہوتی مگر وہ اپنے والدین سے یہ ضروری کہتے رہتے ہیں کہ ابا ! ہمیں قادیان کی سیر کیلئے لے چلو۔اس طرح بچپن میں ہی ان کے قلوب میں احمدیت گھر کرنا شروع کر دیتی ہے اور آخر بڑے ہو کر وہ اپنی احمدیت کا شاندار نمونہ پیش کرنے پر قادری ہو جاتے ہیں۔پھر بچوں کے ذہن کے لحاظ سے بھی جلسہ سالانہ کا اجتماع ان پر بڑا اثر کرتا ہے۔بچہ ہمیشہ غیر معمولی چیزوں اور ہجوم سے متاثر ہوتا ہے۔پس جلسہ سالانہ پر آکر وہ نہ صرف ایک مذہبی مظاہرہ دیکھتا ہے بلکہ اپنی طبیعت کی جدت پسندی کے لحاظ سے بھی تسلی پاتا ہے اور یہ اجتماع اس کیلئے ایک دلچسپ اور یا در رکھنے والا نظارہ بن جاتا ہے۔غرض جو باپ جلسہ پر آتے ہیں وہ اپنی اولاد کے دل میں بھی یہاں آنے کی کی تحریک پیدا کر دیتے ہیں۔اور کبھی نہ کبھی ان کے بچے کا اصرار بچے کو جلسہ پر لانے کا محرک ہو جاتا ہے۔جس کے بعد دوسرا قدم وہ اُٹھتا ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔پس ان ایام میں قادیان آنا کسی ایسے بہانے یا عذر کی وجہ سے ترک کر دینا جسے توڑا جا سکتا ہو یا جس کا علاج کیا جاسکتا ہو، صرف ایک حکم کی نافرمانی ہی نہیں بلکہ اپنی اولاد پر بھی ظلم ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہماری جماعت میں ابھی مالدار لوگ داخل نہیں