خطبات محمود (جلد 18) — Page 613
خطبات محمود ۶۱۳ سال ۱۹۳۷ء احرار کی شورش ہوئی تو خیال کر لیا کہ ذرا ٹھہر جائیں، دیکھ لیں اس کا کیا نتیجہ ہوتا ہے اور پھر انہیں موقع نہ ملا۔کئی ایسے لوگ جو خیال کرتے ہیں کہ ذرا ٹھہر جاؤ۔بعض اوقات مرنے سے پہلے شدید ترین دشمن ہو جاتے ہیں۔لاکھوں آدمی ایسے ہیں کہ جن پر صداقت کھل چکی اور اگر وہ یہ نہ کہتے کہ اب ٹھہر جاؤ تو کبھی ٹھو کر نہ کھاتے۔مجھے کئی ایسے لوگ معلوم ہیں جو دس پندرہ سال پہلے سلسلہ کے بہت قریب تھے مگر اب کی شدید ترین دشمن ہیں۔اور صرف چند روز کے توقف نے ان کو ہدایت سے محروم کر دیا۔انہوں نے چونکہ ہدایت کی قدر نہ کی ، اس لئے اس سے محروم ہو گئے۔اسی طرح مومنوں میں سے بھی بیسیوں ایسے لوگ ی ہوتے ہیں کہ جو ابتلاء میں آجاتے ہیں۔صرف اس لئے کہ وہ ارادہ نہیں کرتے کہ اپنے اوپر ابتلاء نہیں کی آنے دیں گے۔جب کوئی شخص ایسا ارادہ کر لے تو خدا تعالیٰ اسے ضرور بچالیتا ہے۔کیونکہ جو یہ کہے کہ خدایا ! میں تیرا دامن پکڑتا ہوں اسے خدا تعالیٰ کبھی دھکا نہیں دیتا۔ایسا کرنا خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔جب سے آدم پیدا ہوئے اُس وقت سے لے کر اب تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کا دامن پکڑے اور کہے کہ میں ٹھو کر اور ابتلا میں نہیں پڑوں گا ، اور خدا تعالیٰ نے اسے ٹھوکر سے نہ بچایا ہو۔پس یہ بہت نازک دن ہیں۔رمضان کے باقی وقت سے فائدہ اُٹھاؤ اور دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ابتلاؤں سے بچائے اور تو بہ کرو تا ٹھو کر نہ کھاؤ۔جن لوگوں نے ٹھو کر کھائی ہے وہ اگر یہ خیال کرتے کہ اگر وہ سب ای باتیں بھی صحیح ہیں جو وہ سمجھتے ہیں تب بھی ہم دوسروں کیلئے ٹھوکر کا موجب کیوں نہیں۔یہ سلسلہ آخر میرا تو ہے نہیں۔یہ تو خدائی سلسلہ ہے اور جو مجھ سے عداوت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے سلسلہ سے دشمنی کرتا ہے وہ اپنے جرم کا خود اقرار کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ پر اسے ایمان نہ تھا۔پس اپنے ایمانوں کو خدا تعالیٰ کیلئے بناؤ۔پھر جس کے متعلق تمہیں بدظنی ہے اگر وہ بُرا ہے تو خدا تعالیٰ اسے بھی اچھا بنادے گا۔اور اگر اس میں وہ عیب نہیں ہے تو تمہیں ٹھوکر سے بچالے گا۔پس بہت دعائیں کرو اور استغفار کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں دین کیلئے ٹھوکر نہ بنائے۔تم خدا تعالیٰ کی اپنے گھر بار اور عزیزوں رشتہ داروں کو چھوڑ کر آئے ہو اور اگر یہاں آکر بھی کسی ٹھوکر کا شکار ہو جاؤ تو کس قدر بدنصیبی ہے۔اس لئے نیت کر لو کہ کسی ٹھوکر کا شکار نہ ہوگے اور بہت استغفار کرو۔اگر تمہارے دل پر میل بھی لگ گئی ہوگی تو خدا تعالیٰ کا ہاتھ اسے دور کر سکتا ہے۔تمہارا ہاتھ تمہارے دل تک نہیں پہنچ سکتا مگر خدا تعالیٰ کا پہنچ سکتا ہے۔اس لئے اُسی کے آگے عجز و انکسار سے جھک جاؤ تا وہ تمہیں اچھا نمونہ