خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 612

خطبات محمود ۶۱۲ سال ۱۹۳۷ء وقت قریب ہو تو جلدی جلدی چیزوں کو سمیٹتا اور کام ختم کرتا ہے۔اس لئے ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ ان دو دنوں میں خصوصیت سے دعائیں کریں۔قادیان کے لوگوں کیلئے بالخصوص بڑی ذمہ واری ہے۔یہاں آبادی کے بڑھ جانے اور امن ہونے کی وجہ سے کئی لوگ سُست ہو گئے ہیں حالانکہ یہ مقام خشیت اللہ کیلئے مرکز بنایا گیا ہے۔جب تک انسان خدا تعالیٰ کا خوف پیدا نہ کرے، ایمان سلامت نہیں رہ سکتا۔جس طرح رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مدینہ ایک بھٹی ہے جہاں گندہ انسان نہیں رہ سکتا ہے اس طرح یہاں بھی وہ شخص جس کے ایمان میں نقص ہو چھپا نہیں رہ سکتا اور خدا تعالیٰ اسے ضرور ظاہر کر دیتا ہے۔وہ ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ ہم ان کو نکالتے ہیں۔حالانکہ یہ صحیح نہیں اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو مخاطب کر کے فرماتا ہے اُخْرِجَ مِنْهُ الْيَزِيدِيُّونَ - ٥ جس کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ یہان یزیدی پیدا ہوتے رہیں گے اور ہم ان کو نکالتے رہیں گے۔ہم کسی کو یزیدی ای نہیں بناتے ہیں وہ خود بنتے ہیں اور ہم وہی کرتے ہیں جو خدا کا حکم ہے یعنی یہ کہ ان کو نکالو۔دین کا معاملہ بہت نازک ہوتا ہے میں نے دیکھا ہے کئی لوگ ہیں جن کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ابتلا آ جاتے ہیں اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہم اس وقت ایک بلند مینار پر ہیں اگر یہاں سے گرے تو چکنا چور ہو جائیں گے۔جو شخص زمین پر کھڑا ہوا اور گرے تو وہ تو بیچ سکتا ہے مگر جو مینار کے اوپر چڑھتا ہوا گرے اُس کو تو کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔پس قادیان کے لوگوں پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔اس لئے انہیں چاہئے کہ بہت دعائیں کریں، اپنے لئے بھی اور باہر والوں کیلئے بھی۔باہر کے دوستوں کا مرکز والوں پر حق ہوتا ہے کیونکہ یہاں کے اکثر کام ان کے چندے سے چلتے ہیں۔پھر ان مبلغین کا بھی بہت حق ہے جو باہر کام کرتے ہیں ان کے لئے بھی بہت دعائیں کرنی چاہئیں۔پس دعائیں کرو اور بہت استغفار کرو اور رمضان شریف کا اِس قد رثمرہ ہی لے لو کہ آئندہ کیلئے یہ نیت کر لو کہ اپنے اوپر ابتلاء کبھی نہیں آنے دو گے۔آخر ایسے لوگ ہوتے ہی ہیں جو ابتلاء نہیں آنے دیتے۔پھر کیوں تم ویسے نہیں بن جاتے۔اس کیلئے صرف نیت کی ضرورت ہے۔اگر ایک دفعہ نیت کر لی جائے تو پھر آدمی ٹھوکر سے بچ سکتا ہے اور اسے ہدایت مل ہی جاتی ہے۔ہزاروں لوگ ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت ہوئی مگر وہ ایمان اس لئے نہ لا سکے کہ ٹھوکر سے نہ بچ سکے۔وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ احمدیت سچی ہے مگر انتظار کرتے رہے۔