خطبات محمود (جلد 18) — Page 565
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء اب قوم سخت مشتعل ہوگئی ہے اور قریب ہے کہ تجھے ہلاک کر دیں اور ساتھ ہی مجھے بھی۔میں نے ہمیشہ تیری حفاظت کی کوشش کی مگر آج میری قوم کے افراد نے مجھے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ یا اپنے بھتیجے سے الگ ہو جا اور اگر الگ ہونے کیلئے تیار نہیں تو ہم آپ کی سرداری کو بھی جواب دے دیں گے ، اب ہم میں برداشت کی زیادہ طاقت نہیں رہی۔ابو طالب کیلئے یہ ایک ایسا امتحان کا وقت تھا کہ باتیں کرتے کرتے کی انہیں رقت آگئی اور ان کی تکلیف کو دیکھ کر رسول کریم ﷺ کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہو گئے۔مگر آپ نے فرمایا اے چا! میں آپ کے احسانات کو بھول نہیں سکتا۔میں جانتا ہوں کہ آپ نے میری خاطر بڑی بڑی قربانیاں کیں۔لیکن اے پچا ! مجھے خدا تعالیٰ نے اس کام کیلئے مقرر کیا ہے۔اگر آپ کو اپنی تکلیف کا خیال ہے تو اپنی پناہ واپس لے لیں۔خدا نے مجھے سچائی دی ہے جسے میں کبھی چھوڑ نہیں سکتا۔اگر وہ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لاکر رکھ دیں تب بھی میں اُس تعلیم کو نہیں چھوڑ سکتا ؟ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے ملی ہے۔یہ الفاظ کوئی معمولی الفاظ نہیں تھے۔آج بھی یورپ کے معاند مؤرخین جب رسول کریم ﷺ کے واقعات لکھتے ہوئے اس مقام پر پہنچتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور وہ یہ لکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد صاحب جھوٹ بولنے والے نہ تھے اور انہیں اس تعلیم کی سچائی پر پورا یقین تھا جو وہ لائے تھے۔پھرا بوطالب کا کیا حال ہوا ہوگا جس نے کی خود محمد ﷺ کی زبان سے یہ کلمات سنے۔ابو طالب مسلمان نہ تھے مگر جس وقت انہوں نے سچائی کے متعلق کی حمد ﷺ کا یہ یقین دیکھا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھے کہ اے بھتیجے! مجھے قوم کی کوئی پرواہ نہیں میں تیرے ساتھ ہوں تو شوق سے اپنا کام کرتا چلا جا سکے الله غرض اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر سچائی کا وہ مادہ رکھا ہے کہ سچائی پر قائم ہوتے ہوئے انسان کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔جانور بھی جھوٹ نہیں بولتا، جھوٹ صرف انسان کی ایجاد ہے۔مگر جانور کا سچ بالکل اور قسم کا ہوتا ہے۔اس کا سچ طبعی ہوتا ہے مگر انسان کا سچ ایمانی ہوتا ہے۔اس لئے جو انسان راستباز ہوتا ہے وہ ساری دنیا کے مقابلہ میں اکیلا کھڑا ہو جاتا ہے اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کے مقابلہ میں ایک کروڑ آدمی ہیں یا دس کروڑ۔وہ نظارہ دنیا کیلئے ایک حیرت انگیز نظارہ ہوتا ہے کہ ایک انسان کھڑے ہو کر ساری دنیا کو چیلنج کر رہا ہوتا ہے۔مگر وہ کیا چیز ہے جو اس کے پیچھے ہوتی ہے۔اس کے پیچھے صرف حق ہوتا ہے جس کی طاقت پر وہ ساری دنیا کولا کا رتا ہے۔غرض یہ خاصیت اللہ تعالیٰ نے انسان کے