خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 562

خطبات محمود ۵۶۲ سال ۱۹۳۷ء - بنے یا نہ بنے۔مگر خدا نے ہر شخص کو یہ قابلیت دے دی ہے اور وہ اگر چاہے تو رب العلمین الرحمن الرحیم اور ملک يَوْمِ الدِّينِ کی صفات کا مظہر ہوسکتا ہے۔ممکن ہے کوئی شخص کہے یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔سو ایسے لوگوں کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ ملکیت کی قابلیت کا ہر انسان میں پیدا کیا جانا تو ظاہر ہی ہے اور اس صفت کا اتنا غلبہ ہے کہ دنیا میں نا قابل سے نا قابل انسان کو بھی مجازی طور پر بادشاہ کی بننے کی خواہش ہوتی ہے۔بلکہ جتنا کوئی نا قابل ہو اتنا ہی اسے اپنا حکم چلانے کی خواہش ہوتی ہے اور وہ مشورہ دینے کیلئے بے تاب رہتا ہے۔پھر بادشاہت ایک نظام چاہتی ہے اور انسان بھی۔ملک ہو کر قانون بنا تا اور ملک يَوْمِ الدِّينِ ہو کر قاضی بنتا اور لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے اور ہر انسان اس نظام کی پابندی کیلئے مدنی الطبع بنایا گیا ہے۔پھر انسان میں الحق کی صفات بھی موجود ہیں۔چنانچہ انسان ہی وہ وجود ہے جو سچائی کو اس کی انتہائی حد تک پہنچا دیتا ہے اور سچائی کے قیام کیلئے اتنی عظیم الشان قربانی کرتا ہے جس کی مثال کسی اور مخلوق میں نہیں مل سکتی۔اُمت محمدیہ میں ایسے کئی اولیاء ہوئے ہیں جنہوں نے سچائی کیلئے بڑی بڑی تکالیف اٹھا ئیں۔خود ہماری جماعت میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کا واقعہ موجود ہے۔آپ کا بل میں اس قدر رسوخ اور عزت رکھتے تھے کہ بادشاہ حبیب اللہ خان کو گدی پر بٹھانے کا کام انہی کے سپرد کیا گیا تھا۔جب وہ احمدی ہوئے اور اس کا علم بادشاہ کو اور باقی عمائد کو ہوا اور مولویوں نے آ۔پر کفر کا فتویٰ لگا دیا تو بادشاہ کو چونکہ ان کے رسم تاجپوشی ادا کرنے کی وجہ سے ان کا ادب منظور تھا، اس لئے اُن کو بلایا اور کہا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں میں اس پر اعتراض نہیں کرتا، لیکن چونکہ مولوی بہت شور مچاتے ہیں اس لئے آپ خاموشی اختیار کر لیں تا ملک میں جو شور برپا ہے وہ بند ہو جائے میں اس کے بدلہ میں آپ سے بہت کچھ حسن سلوک کروں گا۔مگر انہوں نے حبیب اللہ خان کو صاف جواب دے دیا کہ مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ میرے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔مجھے خدا نے پہلے سے ہی میرا انجام بتا دیا ہے اور میں سچی بات کہنے سے کبھی رُک نہیں سکتا۔اور جو بات مجھے حق دکھائی دیتی ہے وہ میں کسی کے کہنے سے نہیں چھپا سکتا۔آخر علماء نے آپ کو سنگسار کرنے کا فیصلہ کر دیا اور اس کی تعمیل میں آپ کو میدان میں لے جایا گیا۔اُس وقت بادشاہ نے مولویوں سے کہا کہ پہلے تم پتھر مارو، اس کے بعد میں ماروں گا کیونکہ اس کی سنگساری کا فتویٰ تم نے دیا ہے۔مجھے معلوم نہیں کہ یہ فعل سنگساری کے قابل ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا