خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 561

خطبات محمود ۵۶۱ سال ۱۹۳۷ء اور صفات میں سے ہے۔یعنی جن کا ظہور مخلوق سے وابستہ ہے ( یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ صفات میں سے وہ جو بالبداہت کی ایک بالفعل موجودات اور مخلوقات پر دلالت کرتی ہوں وہ تنزلی صفات ہیں کیونکہ وہ اپنی ذات میں ایک مخلوق کے وجود کو اور پھر اس سے اللہ تعالیٰ کے سلوک کو ظاہر کرتی ہیں۔گویا ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے عرش کریم سے اُترتا ہے تا اپنی مخصوص صفات کو بندوں کیلئے ظاہر کرے۔اور تنزیہی صفات وہ ہیں جو بالبداہت کسی مخلوق کے وجود پر دلالت نہیں کرتیں اور ان کا خیال مخلوق کے خیال کے بغیر بھی کیا جاسکتا ہے۔جیسے خدا تعالیٰ کا سچائی محض ہوتا ہے یعنی اَلْحَقُّ ہونا بالا إِلهُ إِلَّا هُوَ ہونا یا ایک لفظ سے یہ مفہوم ادا کیا جائے تو اس کا احد ہونا۔اسی طرح کامل الصفات ہستی کا ملک ہونا ، رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ہونا یا حی ہونا یا العظیم ہونا اور اسی طرح اور صفات ہیں جن کو ذہن میں لاتے ہوئے کسی مخلوق کی طرف ذہن کا انتقال ضروری نہیں ہوتا )۔غرض یہ چاروں صفات تشبیہی تنزلی ہیں۔جن میں اللہ تعالیٰ کا فعل بہت حد تک بندوں کے افعال سے ملتا جلتا ہے اور ان کا ظہوران چار صفات کے تقاضا کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جو آیت زیر تشریح میں بیان ہوئی ہیں اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مجملاً ذکر کیا ہے کہ ان چار صفات نے انسانی پیدائش کا تقاضا کیا جس پر ہم نے انسان کو پیدا کیا نہ کہ بلا وجہ اور فضول۔اب ہمیں غور کرنا چاہئے کہ جبکہ ان چاروں صفات کے نتیجہ میں انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ان کا پر تو ظلی طور پر انسان پر پڑے ورنہ ان صفات کا ظہور انسان کے ذریعہ سے ہو نہیں سکتا۔چنانچہ میں جیسا کہ گزشتہ جمعہ میں بیان کر چکا ہوں کہ یہ چاروں صفات تنزلی صورت میں انسان کے اندر پائی جاتی ہیں۔انسان کے اندر خدا تعالیٰ نے ملک والی صفت بھی رکھی ہے۔جس کے نتیجہ میں وہ ملک يَوْمِ الدِّینِ کا مظہر بنتا ہے۔اس کے اندر الحق والی صفت بھی رکھی ہے۔وہ بھی سچ کو قبول کرتا اور سچائی کے مقابلہ میں دنیا کی ہر چیز کو بھول جاتا ہے۔پھر رحیمیت والی صفت بھی انسان کے اندر رکھی گئی ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے اپنے آپ کو لا الہ الا ھو کہا تھا۔اس کی تنزلی صورت یعنی رحیمیت بھی انسان میں پائی جاتی ہے۔پھر رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ کی تنزلی صورت یعنی رب العلمین ہونا اس کا پر تو بھی انسانی روح پر پڑا ہے اور اس کا مظہر بننے کی قابلیت بھی اس میں موجود ہے۔غرض یہ چاروں صفات ایسی ہیں کہ اگر انسان چاہے تو وہ ان کا مظہر بن سکتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ کوئی