خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 547

خطبات محمود ۵۴۷ سال ۱۹۳۷ء چیز میں لغو اور بے فائدہ پیدا کی ہیں۔یہ سب تماشا ہے وَ انكُمُ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ۔اور یہ کہ تمہاری موجودہ زندگی کسی اور زندگی کا پیش خیمہ نہیں۔اور تم سمجھتے ہو کہ پھر ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟ فرمایا یہ بالکل گندہ خیال ہے، اسے ہماری طرف منسوب کرنا بھی ہماری ہتک ہے۔کیونکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ کی اللہ تعالیٰ کو بچہ بنا دیا۔حالانکہ فَتَعلَی اللہ اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بہت بلند ہے۔وہ کامل الصفات ہے خدا کیا تم سمجھتے ہو کہ بچوں کی طرح کھیل رہا ہے۔وہ پیدا کرتا اور تباہ کرتا ہے، نہ اس کا کوئی مقصد۔اور نہ کوئی غرض ہے۔فرمایا فَتَعلَی الله تم تو ایک عقلمند انسان کی طرف بھی کھیل منسوب نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اگر کھیلے بھی تو اس کے کھیلنے کا وقت کام کے وقت کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔پھر خدا تعالیٰ کی طرف جو تمام عقلوں کا پیدا کرنے والا اور علوشان والا ہے کس طرح کہہ سکتے ہو کہ وہ محض کھیل ہی رہا ہے۔ہندوستان میں ایسے مذہبی فلسفی موجود ہیں جن کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ واقعی کھیل رہا ہے۔وہ کہتے ہیں یہ دنیا کیا ہے؟ یہ محض خدا تعالیٰ کی کھیل ہے۔خدا تعالیٰ تنہائی سے گھبرایا ، اس لئے اس نے کہا لا ؤ کی کوئی شغل پیدا کریں اور اس نے انسان کو پیدا کر دیا۔کوئی انسان مرتا ہے تو وہ ہنستا ہے۔جس طرح بچہ کھلونے کو تو ڑ کر ہنس دیتا ہے۔اس کے ماں باپ ناراض ہو رہے ہوتے ہیں مگر وہ ہنس رہا ہوتا ہے۔اسی کی طرح جب کوئی انسان مرتا ہے تو لوگ تو رور ہے ہوتے ہیں مگر خدا ہنستا ہے کہ کیا خوب گلا گھونٹا گیا۔اس کی طرح جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ماں دردزہ کی شدت سے کراہ رہی ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ ہنس رہا ہوتا ہے۔واقعی ایسے لوگ ہیں جو صاف لفظوں میں یہی عقائد رکھتے ہیں اور کئی ایسی ہیں جو گومنہ سے یہ نہیں کہتے لیکن ان کے اعمال کے محرکات کے پشت یہ خیال ضرور عمل کر رہا ہوتا ہے۔وہ سوچتے ہیں کہ ہم دنیا میں کیوں آئے۔اور پھر خیال کر لیتے ہیں کہ یونہی آگئے۔جو لوگ اپنی زندگی کو دین کیلئے نہیں سمجھتے ان پر اگر جرح کر کے دیکھو تو ان کا عقیدہ یہی نکلے گا کہ خدا تعالیٰ کھیل رہا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَتَعلَى الله۔اللہ تعالیٰ تو بڑی شان والا ہے۔اُس نے دنیا کوکھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ خدا کی چار صفات نے دنیا کی پیدائش کا تقاضا کیا تھا۔وہ صفات ظاہر ہونا چاہتی تھیں اور ان کے اظہار کیلئے ہی اس نے دنیا کو پیدا کیا۔وہ چار صفات کیا ہیں۔الْمَلِكُ الْحَقُّ - لا إِلهُ إِلَّا هُوَ - رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ - فرمایا اللہ تعالیٰ ملک ہے۔اس کی ملکیت چاہتی تھی کہ ظاہر ہو۔وہ الْحَقُّ ہے اس کا حق ہونا چاہتا تھا کہ ظاہر ہو۔لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ اس کی توحید یہ چاہتی تھی کہ ظاہر ہو۔اور اس کا رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ہونا