خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 517

خطبات محمود ۵۱۷ سال ۱۹۳۷ء راستہ کو بند کر دیا۔اب میں مجبوراً آپ کے آخری خط کے جواب میں اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی ج قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ آپ کا خط افتراؤں ، بہتانوں اور کذب سے پُر ہے ( میرا یہ مطلب نہ تھا کہ شیخ صاحب نے خود افترا کیا بلکہ یہ کہ جس نے بھی ان تک یہ باتیں پہنچائی ہیں ، اس نے افتراء، کذب اور جعلسازی سے کام لیا ہے اور شیخ صاحب کے بغض نے اس پر مزید رنگ آمیزی کر دی )۔اب اگر آپ اپنے دعوئی میں مصر ہوں اور دوسروں کے بہتانوں پر قسم کھانے کی غیر متقیانہ جسارت رکھتے ہوں تو آپ بھی اپنے خط کے نیچے لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ لکھ کر بھجوا د میں کہ آپ نے بزعم خود جو واقعات اس خط میں لکھے ہیں یا جو باتیں بیان کی ہیں، وہ سچی ہیں اور ان کے کہنے کا خدا اور اس کے رسول نے آپ کو حق دیا ہے۔اور یہ کہ اگر آپ کا عمل خدا اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف ہو تو آپ پر اور آپ کے خاندان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔میرا منشاء یہ تھا کہ میں چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ کے ماتحت دیئے ہوئے حکم پر کہ ایسے امور پر مباہلہ نہیں ہوتا بلکہ گواہیاں ہوتی ہیں اور مباہلہ کے مطالبہ کا حق صرف اس شخص کو ہے جس پر الزام لگایا گیا ہو نہ کہ الزام لگانے والے کو ، تا کہ وہ دیکھ لے کہ جو شخص اس کے مقابل پر ہے مباہلہ کے قابل بھی ہے یا نہیں ، نہایت یقین کے ساتھ ایمان رکھتا ہوں۔اس لئے شیخ صاحب کی طرف سے کسی ایسے مطالبہ کے پیش ہونے سے پہلے ہی یہ قسم کھا دوں تا کہ ان کے مطالبہ کے بعد یہ راستہ میرے عقیدہ کے مطابق میرے لئے بند نہ ہو جائے۔جب میں نے دوستوں کو مضمون سنایا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ اس رنگ میں ان کے جواب کی ضرورت نہیں وہ ایسے گندے الزام لگا کر اور گستاخی کے مرتکب ہوکر خود ہی جماعت سے الگ ہو گئے ہیں۔ان کی جماعت سے علیحدگی کا اعلان کر دینا چاہئے۔پھر جب وہ خود اپنے الزامات شائع کریں گے تو اس قسم کی تردید کا موقع بھی آجائے گا۔چنانچہ ان کے مشورہ کے مطابق میں نے وہ مضمون لکھا جو پہلے شائع ہو چکا ہے۔بعد کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ دوستوں کا مشورہ بھی نہایت با برکت تھا۔کیونکہ ممکن تھا کہ میرے جواب سے معاملہ دب جاتا اور پھوڑا اندر ہی اندر پکتا رہتا۔لیکن جیسا کہ اب معاملہ ہے اس مرض کا ظاہر ہونا سلسلہ کے مفاد کیلئے ضروری تھا تا کئی لوگ جو اس قسم کی ناپاک سازشوں میں ملوث تھے ظاہر ہوجائیں اور یہ فتنہ بڑھنے سے رُک جائے۔لیکن میں ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھتا ہوں کہ اس قسم کی تحریر جو میں نے لکھی تھی وہ بھی یقیناً بعض اور لحاظ سے مفید ہو سکتی تھی۔بہر حال وہ وقت تو گیا اور اُس وقت کے دعا اور انابت کے موقع کو بھی شیخ صاحب نے