خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 516

خطبات محمود ۵۱۶ سال ۱۹۳۷ء مقابلہ میں بیچ اور ذلیل ہو جائے اور اللہ تعالیٰ ہماری خطاؤں کو نہ صرف معاف کرے بلکہ ہمارے دلوں میں گنا ہوں سے ایسی نفرت پیدا کر دے کہ ہم اس کے احکام توڑنے کو اپنے لئے زہر سمجھیں جسے کوئی عقلمند پینے کیلئے تیار نہیں ہوتا اور نیکیوں اور بھلائیوں اور خیرات کی ایسی محبت پیدا کر دے کہ جس طرح جسم کا کوئی حصہ جُدا کرنے سے انسان کو تکلیف محسوس ہوتی ہے اسی طرح نیکیوں کو چھوڑ نا ہمارے لئے تکلیف اور دُکھ کا موجب ہوا اور تقویٰ ہمارے دل میں مضبوطی سے قائم ہو اور اُس کی محبت ہماری غذا اور اُس کا عشق ہماری دوا ہو۔حتی کہ ہمارا اُٹھنا ، ہمارا بیٹھنا ، ہمارا سونا ، ہمارا جا گنا، ہمارا کھانا ، ہمارا پینا ، ہمارا چلنا ، ہمارا پھر نا ، ہمارا جینا اور ہمارا مرنا سب خدا کیلئے ہو اور ہماری زندگی کی ہر گھڑی اُس کی محبت میں گزرے کی اور اُس سے جدائی کی کوئی ساعت ہم پر نہ آئے۔یہاں تک کہ جب ہم اس دنیا سے رُخصت ہو کر اگلے جہان میں جائیں تو اسی کے وصال کا ابدی جام ہمیں پلا دیا جائے۔ایسا جام جو پھر ہمارے ہونٹوں سے کبھی نہ ہٹایا جائے اور وہ ہماری ہی چیز بن جائے اَللّهُمَّ مِينَ۔اس کے بعد میں اس امر کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس کے متعلق سفر سے پہلے میں نے کہا تھا کہ میں ایک بات بیان کرنی چاہتا ہوں۔مگر اس کیلئے قادیان میں میرا موجود ہونا ضروری ہے تا اگر ضرورت محسوس ہو تو بعد کے خطبات میں اس پر مزید روشنی ڈالی جا سکے۔وہ بات یہ ہے کہ میں شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے متعلق ایک امر کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔جو میں ان کو براہ راست بوجہ موجودہ تعلقات کی نوعیت کے کہنا پسند نہیں کرتا۔اس لئے اس خطبہ کے ذریعہ سے کہتا ہوں تا دوسرے لوگ بھی سُن لیں اور شیخ صاحب تک بھی بات پہنچ جائے۔آگے ان کی مرضی ہے وہ جس طرح چاہیں کریں ، میری طرف سے ان پر حجت پوری ہو جائے گی۔جیسا کہ میں نے قادیان سے جانے سے پہلے بیان کیا تھا میرا ارادہ تو پہلے ہی اس بات کو کہنے کا تھا لیکن اس سفر کے دوران میں ایک رؤیا ہوا جس سے میں نے یہ سمجھا کہ الہی منشاء بھی یہی ہے کہ میں اُن پر حجت تمام کر دوں۔جس وقت شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کا تیسرا خط مجھے آیا اور دوستوں کو بلا کر میں نے ان کے متعلق مشورہ لیا ہے تو اُس وقت میں ایک تحریر لکھ کر اُس مجلس میں لے گیا تھا۔اور میر امنشاء تھا کہ ان خطوں کے جواب میں وہ تحریر انہیں بھجوا دوں۔اس تحریر میں میں نے لکھا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ آپ کو استخارہ اور دعا کی طرف توجہ دلاؤں تا خدا تعالیٰ کے حضور میں مجرم ٹھہریں۔لیکن افسوس کہ آپ نے اس نے