خطبات محمود (جلد 18) — Page 465
خطبات محمود ۴۶۵ سال ۱۹۳۷ء اولا د کو یہاں سے نکال دیا جائے گا، اس کے نزدیک وطن کی کوئی قیمت نہیں ہو سکتی۔اور یہودی چونکہ ہر وقت وطن کو چھوڑ دینے پر آمادہ رہتے ہیں اس لئے یورپین حکومتوں کو ان پر غصہ آتا ہے کہ یہ ہمارے وطن کی کو وطن نہیں سمجھتے۔حالانکہ یہ ذہنیت ان حکومتوں نے ہی پیدا کی ہے۔جو قوم ہمیشہ پابہ رکاب رہے اس سے یہ امید کس طرح کی جاسکتی ہے کہ اس کے اندر حب وطن پیدا ہو۔یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کیلئے وطن کو ترک کر دینا دو بھر نہیں ہوتا۔جن قوموں کیلئے امن نہ ہو ان کیلئے وطن کی قربانی بھی آسان ہوتی ہے اور حقیقت یہی ہے کہ قربانیاں ہمیشہ مشقوں کے ساتھ آسان ہوتی ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم امن کے زمانہ میں بھی تم سے قربانیاں کراتے ہیں تا مشق ہوتی رہے۔دن میں دو نمازیں ایسے وقت میں رکھی ہیں جبکہ ان کا ادا کرنا ایک تاجر کیلئے بہت مشکل ہوتا ہے۔دو پہر کو اسے چند منٹ آرام کرنے اور حساب کتاب کیلئے ملتے ہیں، اُس وقت ظہر کی نماز رکھ دی۔پھر عصر کے وقت گاہکوں کا زور ہوتا ہے اُس وقت بھی نماز حکم دے دیا۔علاوہ ازیں شام کو کھاتہ بند کرنے اور حساب کتاب کرنے کا وقت ہوتا ہے۔عشاء کے وقت اُسے اپناروپیہ محفوظ کرنے اور دُکان بند کرنے کا فکر ہوتا ہے۔مگر ان سب وقتوں میں حکم ہے کہ چلو نما ز پڑھو۔یہی حال زمینداروں کا ہے اس کے کام میں بھی بظاہر بڑی روک ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ مشق کی کراتا ہے کیونکہ لڑائی کو ہمیشہ جاری رکھنا تو اپنے اختیار میں نہیں۔پھر اسلام نے جارحانہ لڑائی کی سختی ممانعت کی ہے، ادھر مشق بھی ضروری ہے اس لئے اسلام نے پُر امن ذرائع مشق کیلئے رکھ دیئے۔اگر تو می اسلام میں جارحانہ لڑائی کی اجازت ہوتی تو یہ حکم دے دیا جاتا کہ جب بھی امن ہو کوئی چھوٹی موٹی لڑائی چھیڑ دیا کرو۔مگر چونکہ یہ جائز نہیں اس لئے دوسرے ذرائع سے قربانی کی مشق کرائی اور حکم دیا کہ نمازیں پڑھو ، حج کرو، زکوۃ دو، روزے رکھو۔ان سے قربانی کی مشق ہوتی رہتی ہے۔مثلاً روزہ ہے اس سے گھر میں بیٹھے بیٹھے ہی سفر والی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔پھر جس طرح لڑائیوں میں جا گنا اور فاقے کرنا پڑتا ہے اسی طرح اس میں ہوتا ہے اور لڑائی کی کیفیت ایک حد تک پیدا ہو جاتی ہے۔پھر مالوں کے نقصان برداشت کرنے کی مشق کرانے کیلئے زکوۃ اور صدقات ہیں۔صدقات تو خیر حوادث کے وقت کیلئے ہیں مگر ز کوۃ مستقل چیز ہے۔پھر وطن چھوڑنے کی مشق کرانے کیلئے حج ہے۔جو لوگ دس میل چلنے کی کے بھی عادی نہیں ہوتے۔ان کے پاس روپیہ آیا تو ان پر حج فرض ہو جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ مکہ جاؤ ،