خطبات محمود (جلد 18) — Page 437
خطبات محمود ۴۳۷ سال ۱۹۳۷ء وو یقینی طور پر موجود ہے اور اس طرح پھر بھی شبہ رہ جاتا ہے اور انسان خیال کرتا ہے کہ ممکن ہے کوئی مخفی قانون ایسا ہو جس کے ماتحت یہ کارخانہ عالم آپ ہی آپ چل رہا ہو۔جس طرح آجکل کے فلسفی کہتے ہ ہیں کہ اس دنیا کی پیدائش میں خود ہی ایک ایسا قانون مخفی ہے جس کی وجہ سے یہ تمام دنیا چل رہی ہے، کسی خاص وجود کو تسلیم کرنے کی ضرورت نہیں۔غرض آپ نے اس بات پر بحث کی اور یہ ثابت فرمایا ہے کہ فلسفہ اور عقل انسانی خدا تعالیٰ کے متعلق انسان کو ” ہونا چاہئے کی حد تک ہی رکھتے ہیں مگر الہام الہی نبوت کے ذریعہ ہے ثابت کرتا ہے۔ہم جب زمین کو دیکھتے ہیں ، ہم جب آسمان کو دیکھتے ہیں تو انہیں دیکھ کر یہ کہتے ہیں کہ ان کو بنانے والا کوئی ہونا چاہئے اور ہماری دلیل ختم ہو جاتی ہے۔مگر جب خدا ہمیں مخاطب کرتا اور فرماتا ہے انى انا اللہ یقینا میں ہی خدا ہوں۔تو یہ اب ” ہے “ بن گیا اور ” ہونا چاہئے کی حد سے اس نے ہمیں نکال دیا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی گھر میں آگ جل رہی ہو ، چولہے پر ہنڈیا چڑھی ہوئی ہو، ہنڈیا کے ابلنے کی آواز آرہی ہو تو ہم باہر سے اس آواز کوشن کر یہ نتیجہ نکالیں کہ اس گھر کا کوئی مالک ہونا چاہئے کیونکہ ہم غور اور فکر کرنے کے بعد فوراً اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ کوئی شخص ہوگا جو یہ ہنڈیا پکا رہا ہوگا، کوئی شخص ہو گا جس نے آگ جلائی ہوگی اور کوئی شخص ہوگا جو گوشت وغیرہ لایا ہوگا۔مگر اس قدر نتائج نکالنے کے بعد بھی ہم اسی حد تک پہنچیں گے کہ گھر کا کوئی مالکی اندر ہونا چاہئے۔اس نتیجہ پر ہم نہیں پہنچ سکتے کہ وہ شخص اندر ہے بھی۔ممکن ہے کوئی کہے اس سے زیادہ وضاحت اور کیا ہو سکتی ہے۔جب آگ جل رہی ہے ، ہنڈیا چولہے پر چڑھی ہے ، اس کے ابلنے اور جوش کھانے کی آواز آرہی ہے تو اس سے ہم یہ نتیجہ کیوں نہیں نکال سکتے کہ اندر واقعہ میں کوئی شخص موجود ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان تمام قرائن کے باوجود ہم یقینی طور پر یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ اندر کوئی مالک موجود ہے۔فرض کر واندر واقعہ میں کوئی شخص ہوا اور اس نے ہنڈیا چولہے پر چڑھائی ہو مگر ہنڈیا چو لہے پر رکھتے ہی وہ مر گیا ہو اور ہم یہ سمجھتے ہوں کہ اندر وہ موجود ہے حالانکہ وہ مر چکا ہو۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی بیٹھے بیٹھے دل کی حرکت بند ہو جاتی ہے اور وہ اُسی وقت مر جاتے ہیں۔پس ممکن ہے وہ دل کی حرکت بند ہو جانے کی وجہ سے مرا پڑا ہو۔یا ممکن ہے اسے کسی سانپ نے کاٹا ہو اور وہ مر چکا ہو۔یا بعض دفعہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہنڈیا رکھنے کے بعد اسے کوئی ضروری کام یاد آ گیا ہو اور وہ گھر چھوڑ کر اُس وقت باہر گیا ہوا ہو۔مثلاً فرض کرو اُس نے ہنڈیا چڑھائی ہو اور اس کے معا بعد ایک شخص اس کے پاس