خطبات محمود (جلد 18) — Page 402
خطبات محمود ۴۰۲ سال ۱۹۳۷ء پندرہ ہیں آدمی اس میں شریک ہوتے مگر اب ایک شخص خلیفہ ہو گیا ہے اور یہ اعزاز اُسی کو حاصل ہے دوسرا کوئی حاصل نہیں کر سکتا۔کیونکہ خلافت ایک ایسا عہدہ ہے جو لازماً ایک شخص کو ہی ملے گا، زیادہ کو نہیں مل سکتا۔پس وہ سمجھتے ہیں کہ اب اس عہدہ پر تو ایک شخص قابض ہو گیا ، ہم کیا کریں۔اگر یہ خلیفہ بننے کا اہل تھا تو ہم بھی خلیفہ بننے کے اہل ہیں۔نہ یہ اُترتا ہے کہ کوئی اور خلیفہ بنے اور نہ مرتا ہے کہ کسی اور کو خلافت کاج مقام حاصل ہو۔گویا ان کے نزدیک خلافت کے مقام کی حیثیت ویسی ہی ہونی چاہئے جیسے لڑکے جب آپس میں کھیلتے ہیں اور ایک دوسرے پر سوار ہوتا ہے تو نچلا لڑکا کہتا ہے ”اتر کانٹو میں چڑھاں“ اس پر اوپر والالڑ کا اُتر کر نیچے ہو جاتا ہے اور نیچے والا او پر سوار ہو جاتا ہے۔یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خلافت کا مزا تب تھا کبھی میں خلیفہ بنتا کبھی وہ کبھی زید بنتا کبھی بکر۔مگر چونکہ ان کی یہ آرزوئیں پوری نہیں ہوئیں اس لئے اندر ہی اندر ایک جلن اور سوزش اور حسد کی آگ انہیں جلائے رکھتی ہے۔وہ کہتے ہیں اتنی مدت گزرگئی ، اب تک یہی خلیفہ بنا بیٹھا ہے ( نَعُوذُ بِاللهِ ) مرتا بھی نہیں کہ ہمیں یہ عزت حاصل ہو۔پھر ان کا نفس اندر ہی اندر تدبیریں سوچتا ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ جب یہ مرتا نہیں تو اسے خلافت سے اُتارنے کی کوشش کریں۔شاید اسی طرح ہم کو خلیفہ بننے کا موقع مل جائے۔یہ ایسے ہی وسوسے ہوتے ہیں جیسے عارضی طور پر رسول کریم ہے کے مقام کے ذریعہ لوگوں کو ایک دھکا لگتا ہے اور نا دان انسانوں کے دلوں میں اس قسم کے خیالات اُٹھنے شروع ہو جاتے ہیں کہ اس رسول نے ہمارے لئے ترقیات کے دروازے بند کر دیے اور جو انعامات پہلے براہ راست مل جایا کرتے تھے وہ اب براہ راست نہیں مل سکتے۔تو اللہ تعالیٰ نے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں انہی وساوس اور شبہات کا ازالہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ تم کو اگر میرے قرب اور وصال کی ضرورت ہے تو یا دی رکھو میرے قرب اور وصال کے تمام دروازے کھلے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں ہوا۔اور اگر تمہیں اپنی عزت کی خواہش ہے تو پھر جاؤ اور اپنی عزت کو آپ تلاش کرتے پھرو۔غرض لوگوں کے ان تمام وساوس کا اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں جواب ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بتا دیا ہے کہ اگر تمہیں میرے انعامات کی خواہش ہو تو تم تقویٰ اللہ اختیار کرو ہم ہر ج روحانی کمال تمہیں دینے کیلئے تیار ہیں اور تمہارے لئے میرے قرب اور وصال کے دروازے اسی طرح گھلے ہیں جس طرح دوسروں کے لئے۔لیکن اگر تم اپنے نفس کی عزت چاہتے ہو اور دنیوی وجاہت کے