خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 397

خطبات محمود ۳۹۷ سال ۱۹۳۷ء کر کر کے انہیں کھلاتا اور ان کی خاطر تواضع حد سے زیادہ کرتا۔اسی طرح جب ہم قرآن کریم کے باغی میں داخل ہوتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسے سخی کے پاس چلے گئے ہیں جسے اسی میں لذت آتی ہے کہ وہ تازہ بتازہ پھل ہمارے سامنے پیش کر کے اور کھلائے۔چنانچہ اس باغ کا مالک یعنی کی اللہ تعالیٰ اپنے معارف کے پھل ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اور کہتا ہے میرا یہ پھل بھی کھاؤ ، میرا وہ پھل بھی کھاؤ ، میرے اس پھل کا بھی مزا چکھو اور میرے اس پھل سے بھی لطف اندوز ہو اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا ایک باغ ہے جس میں کروڑوں قسم کے درخت لگے ہوئے ہیں اور ہر درخت پھلوں سے لدا ہوا ہے اور قسم قسم کے پھل بالکل پکے ہوئے تیار موجود ہیں اور باغ کا مالک ایک پھل اُتار کر کہتا ہے کہ اس باغ کا یہ پھل کھاؤ اور پھر دوسرا پھل پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ بھی کھاؤ۔اور پھر دوسرے کے بعد تیسر اور تیسرے کے بعد چوتھا اور چوتھے کے بعد پانچواں حتی کہ وہ پھل تو ڑ تو ڑ کر ہمارے سامنے رکھتا چلا جاتا ہے اور کہتا ہے یہ بھی لو اور وہ بھی لو۔اسے بھی چکھو اور اسے بھی چکھو۔مگر جب اسی باغ میں غیر احمدی کی جاتے ہیں تو انہیں کیکر کے درختوں کے سوا اور کوئی درخت نظر نہیں آتا اور کیکر کے درخت بھی ایسے جو خشک ہوں اور جن پر کوئی سبزی نہ ہو۔نہ درختوں سے انہیں کچھ ملتا ہے اور نہ مالک انہیں پوچھتا ہے اور وہ خالی ہاتھ واپس آ جاتے ہیں۔اس کی وجہ محض ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ وہ اس باغ کے مالک کے پاس بدظنی اور بدگمانی سے بھرا ہو ا دل لے کر جاتے ہیں۔وہ پہلے ہی خیال کر لیتے ہیں کہ اس گھر کا مالک سخت بخیل اور کنجوس ہے ، وہ ہمیں کچھ نہیں دے گا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انہیں کچھ نہیں دیتا۔وہ کہتا ہے جب مجھ پر بدظنی کرتے ہیں تو میں انہیں کیوں اپنی نعمتیں دوں۔مگر جب ہم اس باغ کے مالک کے پاس جاتے ہیں تو اس یقین کے ساتھ جاتے ہیں کہ یہ بہت ہی سخی ہے، اور ہمارے دامن کو اپنی نعماء سے پُر کر دے گا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیں ہمارے یقین سے بھی زیادہ مالا مال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مجھ پر حسن ظن لے کر آئے ہیں۔اب میں ان کے حُسنِ ظن سے بھی بڑھ کر ان سے سلوک کروں گا تا یہ میرے احسانات کے اور بھی گرویدہ ہوں۔تو دیکھو کتنی چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے مسلمانوں نے اس خزانہ کو کھو دیا۔جب انہوں نے یہ سمجھا کہ اب قرآن کریم کے معارف کا انعام انہیں حاصل نہیں ہوسکتا، جو انعام ملنا تھا وہ ان کے بزرگوں کو مل چکا ان پر الہی معرفت کے دروازے بند ہو گئے۔وہ قرآن کریم سے فائدہ اُٹھانے سے گاتی طور پر محروم ہو گئے۔