خطبات محمود (جلد 18) — Page 386
خطبات محمود ٣٨٦ سال ۱۹۳۷ء یا اس کے پیاروں سے لڑائی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ تمام درجات سے محروم کر دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہو جاتا ہے۔یا پھر یہ مرض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ غلو کر نے لگ جاتا ہے اور ایسی جگہ انکسار کرنے لگ جاتا ہے جہاں اس کیلئے انکسار جائز نہیں ہوتا۔ایسی حالت میں اس کے اندر تکبر نہیں ہوتا بلکہ انکسار ہوتا ہے اور انکسار بھی جب حد سے بڑھ جائے تو ایک مقام پر جرم بن جاتا ہے۔پس انکسار اس کو ایک ایسے مقام پر لے جاتا ہے جو ضلالت اور گمراہی کا مقام ہوتا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی نگاہ سے وہ گر جاتا ہے۔مثلاً خدا کے کسی برگزیدہ کے متعلق وہ یہ خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ اس کے ی مقابلہ میں میں اتنا ذلیل ہوں ، اتنا ذلیل ہوں کہ مجھے اب اس کی پوجا کرنی چاہئے اور میں تو بالکل ادنی انسان ہوں، یہ شخص جس کی میں اطاعت کرتا ہوں خدا یا خدا کا بیٹا ہے۔جب انکسار کو وہ اس حد تک پہنچا دیتا ہے تو وہ ضال کہلانے لگ جاتا ہے۔اور ایسا انسان بھی انعام کے مقام پر پہنچ کر گر جاتا ہے۔پہلی کی قوم کی مثال رسول کریم ﷺ نے یہود سے دی اور دوسری قوم کی مثال رسول کریم ﷺ نے نصاری سے دی۔یہود وہ تھے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے انبیاء کے مقابلہ میں تکبر سے کام لیا اور نصاریٰ وہ تھے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے مقابلہ میں اس قدر انکسار کیا کہ اسے خدا اور خدا کا بیٹا سمجھنے لگ گئے اور آپ اس کے بندے بن بیٹھے۔پہلی قوم محبت تو ڑ کر خدا تعالیٰ کی مجرم بنی تھی تو دوسری قوم محبت کی بے جا تی زیادتی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے حضور مجرم قرار پا گئی۔۱۹۳۵ء میں میں نے اسی مسجد میں اسی ممبر کھڑے ہوکر ایک رویا سنایا تھا جو انہیں دنوں الفضل میں بھی شائع ہو گیا اور جس کے ایک حصہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ ناجائز محبت انسان کو مجرم بنادیتی ہے۔میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ کبڈی کھیلنے لگے ہیں اور انہوں نے شرط یہ باندھی ہے کہ جو جیت جائے گا، خلافت کے متعلق اس کا خیال قائم کیا جائے گا۔جب مجھے ان کے اس خیال کا علم ہوا تو میں نے ان پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا تم دین کو ہنسی کا تج موجب بناتے ہو اور کیا ان امور کا فیصلہ کبڈیوں سے ہو سکتا ہے۔اس پر جو لوگ پہلے خلافت کے موید تھے میں نے دیکھا کہ وہ بھی بھر گئے اور انہوں نے میرے روکنے کو ہی اپنی ہتک سمجھا اور وہ بھی دوسرے فریق کے ساتھ شامل ہو گئے۔اب یہ ایک ناجائز محبت کا مظاہرہ تھا جو انہوں نے کیا اور بوجہ اس کے کہ انہیں خدا کیلئے محبت نہ تھی ان کے ایمان ضائع ہو گئے۔پس اگر محبت کے جذ بہ کا غلط طریق پر استعمال کیا جائے تو اس کا نتیجہ بھی کبھی اچھا نہیں نکل سکتا۔