خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 384

خطبات محمود ۳۸۴ سال ۱۹۳۷ء اور یا اللہ ! ہم ہمیشہ صراط مستقیم پر چلنے والے ہوں۔یہ ترتیب بالکل طبعی تھی کیونکہ پہلے انسان کمزور یوں سے نجات حاصل کرنے کی خواہش کرتا ہے اور پھر یہ چاہتا ہے کہ میں کامل انسان بن جاؤں۔جب ایک بیمار دعا کرے گا تو یوں کرے گا کہ یا اللہ ! مجھے بیماری سے شفا بخش اور مجھے طاقت عطا فرما۔کیونکہ پہلے اس کی بیماری دور ہوگی اور پھر اس میں طاقت آئے گی۔اسی طرح خدا کا غضب اور ضلالت بیماریاں ہیں اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا قوت اور طاقت کی دعا ہے۔اور کوئی عقلمند یہ دعا کبھی نہیں کرے گی گا کہ پہلے میں پہلوانوں کی طرح مضبوط بن جاؤں اور پھر میری بیماریاں دور ہوں۔وہ یہی دعا کرے گا کہ پہلے میری بیماریاں دور ہوں اور پھر میرے اندر پہلوانوں کی سی طاقت آجائے۔تو اگر یہ تینوں مستقل دعائیں ہوتیں تو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کو پہلے رکھا جاتا اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ سے کو بعد میں۔مگر یہ مستقل دعا ئیں نہیں بلکہ ساری دعائیں مل کر ایک کی کامل دعا بنتی ہے۔چنانچہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ سے طلب کیا گیا۔اور اس دعا کے اندر ہی وہ ضلالت جو ایمان سے پہلے ہوتی ہے اس کے دور ہونے کی دعا شامل ہے۔مثلاً اگر کوئی بیمار صرف یہ دعا کرتا ہے کہ یا اللہ ! مجھے مضبوطی اور طاقت عطا کر تو بیماری کے دور ہونے کی دعا خود بخود اس میں آجائے گی۔ہاں اگر اس کے ساتھ ہی وہ یہ الفاظ بھی بڑھا دے کہ پھر کبھی میں بیمار نہی ہوں تو بڑھا سکتا ہے کیونکہ یہ آئندہ کے متعلق ہو گی۔اس کی موجودہ بیماری کے دور ہونے کی دعا اس کے پہلے فقرہ میں ہی آجائے گی تو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں جس کے معنے یہ ہیں کہ یا اللہ ! مجھے کامل صحت دے، یا اللہ ! مجھے کامل قوت دے وہ ضلالت جو ایمان سے پہلے ہوتی ہے اور وہ غضب جو عدم ہدایت کی صورت میں نازل ہوتا ہے اس سے بچنے کی دعا خود بخود آ گئی۔مگر پھر ایمان کے بعد بھی کبھی انسان ضلالت اور گمراہی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور ایمان کے بعد بھی کبھی انسان اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد ہو جاتا ہے۔پس اس غضب اور اس ضلالت سے بچنے کی دعا ان آخری آیتوں میں سکھائی گئی ہے اور مومنوں کو تلقین کی گئی ہے کہ تم یہ دعا کرو کہ یا اللہ! ہماری بیماریوں کو دور کر اور ہمیں اپنے فضل سے کامل روحانی صحت دے۔مگر پھر اس صحت کی وجہ سے جو بعض خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور انسان اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق ہو جاتا ہے اور کبھی ضلالت اس پر غالب آ جاتی ہے اور وہ گمراہ ہو جاتا ہے، ان تمام خرابیوں سے تا عمر اور تا اختتام حیات ہمیں محفوظ رکھ اور صراط مستقیم پر ثبات