خطبات محمود (جلد 18) — Page 310
خطبات محمود ۳۱۰ سال ۱۹۳۷ء اب دیکھ لو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بہت بڑا فرق ہے۔اُس وقت حکوت ساتھ تھی ، اسلام مضبوط ہو چکا تھا، ملکوں کے ملک اسلام میں داخل ہو چکے تھے اور اسلامی شریعت پر رات اور دن عمل کروایا جارہا تھا۔پس اُس وقت تفرقہ صرف سیاسی کمزوری پیدا کرتا تھا مگر یہ زمانہ اور ہے، ترقی آہستہ ہے، حکومت غیر ہے، اسلامی تمدن قائم نہیں ہوا۔پس آج کا تفرقہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و والسلام کی بعثت کو بالکل رائیگاں کر سکتا ہے۔اسی لئے آج کا فسادا اور اُس وقت کا فساد بالکل مختلف ہے۔اُس وقت رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہی اسلامی حکومت قائم ہو چکی تھی اور اس وجہ سے وہ تمام مسائل کی جن کا تعلق حکومت کے ساتھ ہے قائم کر دیئے گئے تھے۔مثلاً زکوۃ اور عشر کی تقسیم ، لین دین کے مسائل، اقتصادیات کے متعلق احکام، بادشاہوں کا رعایا سے تعلق اور رعایا کا بادشاہ سے تعلق۔یہ تمام امورا ایسے تھے کہ ان کے متعلق شریعتِ اسلامی جن تفاصیل کی حامل ہے، وہ مسلمانوں میں قائم کر دی گئی تھی۔پس ج حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جو تفرقہ ہو ا گو اس سے مسلمانوں کو سیاسی لحاظ سے کمزوری ہوئی مگر بہر حال اس تفرقہ کے نتیجہ میں جو حکومتیں قائم ہوئیں وہ اسلامی حکومتیں ہی تھیں۔کیونکہ اسلام عملی صورت میں دنیا میں قائم ہو چکا تھا۔مگر اس زمانہ میں اسلام کی ترقی آہستہ آہستہ مقدر ہے اور ابھی احمدی حکومتیں ہی دنیا میں قائم نہیں ہوئیں۔زکوۃ اور خراج کے مسائل ، لین دین کے معاملات ، حکومت اور رعایا یا امیر اور غریب کے متعلق احکام ، آقا اور ملازمین کے تعلقات، رعایا کے فرائض ، اسلامی حکومت کے حقوق اور فرائض ، حکومتوں کے آپس کے تعلقات اور ورثہ اور سُود وغیرہ سینکڑوں مسائل ایسے ہیں جن کے متعلق اسلامی تعلیم دنیا میں قائم نہیں ہوئی۔پس یہ ساری عملی اسلامی زندگی ابھی پوشیدہ ہے اور اُس وقت کا انتظار کر رہی ہے جب کہ اسلامی بادشاہتیں دنیا میں پھر قائم ہوں اور ان امور کے متعلق اسلامی تعلیم کا احیاء ہو۔پس چونکہ ابھی تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم دنیا میں صحیح طور پر قائم نہیں ہوئی اور نہ تمدن کے متعلق اسلام کی وہ تعلیم دنیا میں رائج ہوئی ہے جس کو کامل طور پر رائج کرنا خدا تعالیٰ کا منشاء ہے اس لئے آج اگر کوئی شخص تفرقہ کرتا اور جماعت کو پراگندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ صرف معمولی مجرم نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قاتل ہے۔کیونکہ ابھی حضرت کی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم دنیا میں قائم نہیں ہوئی اور اس کے قائم ہونے میں ایک لمبا عرصہ