خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 309

خطبات محمود ۳۰۹ سال ۱۹۳۷ء کا ہوتا ہے مگر حالات کے اختلاف کی وجہ سے سزا کی نوعیت تبدیل ہو جاتی ہے۔مثال کے طور پر دیکھ لوتم کسی شہر میں رہتے ہو اور تمہارے پاس کوئی بھوکا شخص آتا ہے اور کہتا ہے مجھے کچھ کھانے کیلئے دو تمہارے پاس کھانا موجود ہے مگر تم اسے نہیں دیتے اور وہ چلا جاتا ہے۔اب تم ایک گناہ کے مرتکب ہوئے ہو کیونکہ وہ بھوکا تھا مگر تم نے اسے کھانا نہیں دیا۔لیکن اگر تم ایک ایسے جنگل میں ہو جہاں بیں ہیں تمہیں تمھیں میل تک آبادی کا نام و نشان نہیں اور کہیں سے کھانا ملنے کی امید نہیں ہو سکتی لیکن تمہارے پاس وافر کھانا موجود ہے مثلاً ایک گھوڑا روٹیوں اور کھانے پینے کے سامان سے لدا ہوا تمہارے پاس کھڑا ہے ایسی حالت میں اگر ایک بھو کا تمہارے پاس آتا ہے اور کہتا ہے میرا بہت بُرا حال ہے مجھے ایک روٹی دے دو تا اسے کھا کر میرے بدن میں کچھ طاقت آجائے اور میں آبادی کے قریب پہنچ جاؤں تو ایسی حالت میں اگر تم اسے روٹی نہیں دیتے اور وہ بھوکا چلا جاتا ہے تو اس صورت میں بھی تم ایک گناہ کے مرتکب ہو گے کیونکہ کھانا تمہارے پاس موجود تھا مگر تم نے اسے نہیں دیا۔لیکن ان دونوں جگہ ایک بین فرق بھی موجود ہے جو تمہارے جرم کو ایک جگہ معمولی اور دوسری جگہ سنگین بنا دیتا ہے۔جب تم نے آبادی میں ایک بُھو کے اور غریب شخص کو روٹی نہ دی تو اُس وقت امکان تھا کہ اسے کوئی اور شخص روٹی دے دیتا مگر جنگل میں جب تم نے ایک بھوکے کو روٹی نہ دی اور ایسی حالت میں نہ دی جبکہ ہیں ہیں تمہیں تمھیں میل تک اسے کھانا ملنے کی امید نہ ہو سکتی تھی تو تم نے اسے بھوکا ہی نہیں رکھا بلکہ اگر وہ مر جائے گا تو تم اس کے قاتل بھی ٹھہرو گے۔تو صرف عمل کو دیکھا نہیں جاتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ارد گرد کے حالات اس عمل کو کیا شکل دے رہے ہیں۔بالکل ممکن ہے ایک عمل ظاہری نگاہ میں بالکل چھوٹا ہو مگر حالات کی وجہ سے وہ بہت بڑی اہمیت رکھنے لگے۔مثلاً دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو حافظ قرآن ہیں اگر کوئی شخص کسی حافظ قرآن کو قتل کرتا ہے تو ہم اسے قاتل کہیں گے۔لیکن فرض کرو اگر کسی وقت دنیا میں صرف ایک ہی حافظ قرآن ہو تو اگر کوئی شخص اُس کو مارے گا تو نہیں کہا جاسکے گا کہ دونوں کا فعل ایک جیسا ہے کیونکہ گودونوں جگہ حافظ قرآن ہی ای قتل ہوئے ہوں گے مگر ان دونوں قتلوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔پہلا قاتل صرف ایک عام آدمی انان کا قاتل ہے مگر دوسرا قاتل صرف ایک آدمی کا قاتل نہیں بلکہ قرآن کا بھی قاتل ہے۔کیونکہ اس کے قتل کے بعد دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں رہے گا جس کے سینہ میں قرآن محفوظ ہو۔تو صرف کسی عمل کی ظاہری شکل نہیں دیکھی جاتی بلکہ اس کے باطنی حالات بھی دیکھے جاتے ہیں۔