خطبات محمود (جلد 18) — Page 292
خطبات محمود ۲۹۲ سال ۱۹۳۷ء والا ، ایک تبلیغیں کرنے والا ، ایک مناظرے کرنے والا ، ایک بخشیں کرنے والا اور ایک مدرسہ دینیہ کا لمبے عرصہ تک ہیڈ ماسٹر رہنے والا اگر یہ کہے کہ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا ، دراصل مجھے دھوکا لگ گیا تھا ، تو کیا کوئی بھی عقلمند اس کے اس عذر کو تسلیم کرے گا ؟ اگر مصری صاحب جب میری بیعت سے الگ ہوئے تھے، ہم ان کی نسبت کہتے کہ مصری صاحب غیر احمدی ہو گئے ہیں تب بیشک وہ کہہ سکتے تھے کہ میں نے تو صرف خلیفہ وقت کی بیعت چھوڑی ہے اور آپ لوگ مجھے احمدیت سے ہی خارج سمجھنے لگ گئے ہیں۔اگر میں نے اپنی کسی تحریر یا تقریر میں ایک جگہ بھی یہ الفاظ استعمال کئے ہوں کہ مصری صاحب غیر احمدی ہو گئے ہیں تب تو بے شک وہ یہ مثال پیش کر سکتے اور کہہ سکتے تھے کہ جب حضرت طلحہ اور حضرت زبیر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے الگ ہوئے تھے تو کیا وہ اسلام سے خارج ہو گئے تھے ؟ اگر نہیں تو پھر مجھے کیوں غیر احمدی کہا جاتا ہے۔لیکن ہم نے ایسا نہیں کہا۔اگر کوئی شخص میری کسی تحریر یا تقریر سے اشارۃ یا وضاحنا ظاہراً یا باطناً یہ ثابت کر دے کہ میں نے کہا ہو مصری صاحب احمدیت سے علیحدہ ہو گئے ہیں اور اب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر بھی ایمان نہیں رکھتے تب بیشک یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے بیعت سے علیحدگی اختیار کی ہے، احمدیت سے علیحدگی تو اختیار نہیں کی اور تب بیشک وہ خود بھی سوال کر سکتے تھے کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے بھی حضرت علی کی بیعت کو فسخ کر لیا تھا مگر کیا کوئی ہے جو جرات کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔لیکن جب میں نے ایک دفعہ بھی یہ الفاظ استعمال نہیں کئے اور نہ ہماری جماعت نے انہیں غیر احمدی کہا تو ان کا اپنے دعوی کے ثبوت میں حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کو پیش کرنا اور یہ دریافت کرنا کہ کیا وہ بیعت سے علیحدہ ہو کر اسلام سے نکل گئے تھے صریح دھوکا اور فریب نہیں تو اور کیا ہے۔میں نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ جماعت سے الگ ہو چکے ہیں نہ یہ کہ وہ احمدیت یا اسلام سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔اب دوسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ اگر ہماری جماعت کا یہ محاورہ ہوتا کہ جو شخص بھی ہماری وی جماعت میں نہیں وہ احمدی نہیں۔تب بھی وہ کہہ سکتے تھے کہ گوتم نے یہ الفاظ نہ کہے ہوں کہ میں احمدیت سے خارج ہوں مگر چونکہ جماعت میں عام محاورہ یہی ہے کہ جو شخص جماعت سے علیحدہ ہوتا ہے اسے احمدی نہیں سمجھا جاتا ، اس لئے میں نے دھوکا کھایا اور سمجھا کہ آپ مجھے احمدی نہیں سمجھتے۔گو ہم پھر بھی کی مصری صاحب کو غلطی پر سمجھتے۔کیونکہ جب ہم نے انہیں غیر احمدی نہ کہا ہوتا تو انکا کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ ا