خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 291

خطبات محمود ۲۹۱ 호 سال ۱۹۳۷ء جگہ دیدہ دانستہ غلط بیانی سے کام لیا ہے۔مجھے ہرگز یہ امید نہیں تھی کہ باوجود اس تمام مخالفت کے جو انہوں نے اختیار کی ہے، باوجود اس تمام عناد کے جو انہوں نے ظاہر کیا ہے اور باوجود اس شدید دشمنی کے جس کے وہ مرتکب ہوئے ہیں، وہ احمدیت سے اتنے بے بہرہ ہو جائیں گے کہ چند دنوں کے اندر ہی اندر دیدہ دانستہ خلاف بیانی کے مرتکب ہونے لگ جائیں گے۔چنانچہ میں ابھی ثابت کر دوں گا اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایسا ثابت کر دوں گا کہ ایک جاہل سے جاہل اور ان پڑھ سے ان پڑھ انسان بھی یقینی طور پر سمجھ جائے گا کہ مصری صاحب نے قطعی طور پر جان بوجھ کر غلط بیانی سے کام لیا ہے۔میرے اعلان کا مضمون یہ تھا کہ مصری صاحب ہماری جماعت سے الگ ہیں میں انہیں اپنی جماعت سے خارج سمجھتا اور ان کے خروج کا اعلان کرتا ہوں۔مصری صاحب اس پر اعتراض یہ کرتے ہی ہیں کہ میں نے جماعت سے نہیں بلکہ بیعت سے الگ ہونے کو کہا تھا۔پس یہ مجھ پر غلط الزام ہے کہ میں نے نے جماعت چھوڑ دی ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر الگ ہو گئے تھے مگر کوئی ہے جو جرات کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔اب اس امر کود یکھو کہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ وہ جماعت سے الگ ہو گئے اور وہ مثال میں حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیر کو پیش کرتے ہوئے دریافت یہ کرتے ہیں کہ کیا وہ اسلام سے نکل گئے تھے؟ یہ وہ دیدہ دانستہ دھوکا ہے جو انہوں نے لوگوں کو دیا۔کیا ہماری جماعت آج قائم ہوئی ہے کہ ابھی تک اہم اپنی اصطلاحات کے مفہوم کو واضح نہیں کر سکے یا کیا مصری صاحب نئے آدمی ہیں کہ انہیں آج تک یہ علم نہیں ہو سکا کہ خلیفہ وقت کی بیعت سے جب کوئی کی شخص الگ ہوتا ہے تو وہ احمدیت یا اسلام سے خارج نہیں سمجھا جاتا بلکہ جماعت سے علیحدہ سمجھا جاتا ہے۔جماعت احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد خلافت کے سلسلہ میں منسلک ہوئے قریباً تمہیں سال گزر چکے ہیں۔مئی ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وفات پائی اور آج جولائی ۱۹۳۷ ء ہے گویا ۲۹ سال اور کچھ مہینے سلسلۂ خلافت کو شروع ہوئے ہو چکے ہیں۔اس تمہیں سال کے عرصہ میں ان اصطلاحات کے متعلق ہماری جماعت کے خیالات بار بارظاہر ہو چکے ہیں۔اگر کوئی نئی بات ہو تو انسان کہہ سکتا ہے کہ مجھے معاف فرمائیے مجھے چونکہ علم نہیں تھا اس لئے دھوکا کھایا۔مگر جس امر کے متعلق ۳۰ سال تک ہر ادنی اعلیٰ، چھوٹا بڑا ، عالم جاہل گفتگو کرتے چلے آئے ہوں اور بار بار اس کے متعلق جماعت کے خیالات ظاہر ہو چکے ہوں، اس کے متعلق ایک عالم کہلانے والا ، ایک مولوی کہلانے