خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 288

خطبات محمود ۲۸۸ سال ۱۹۳۷ء اس میں قربانی کونسی ہے۔قربانی تو جب تھی کہ پہلے ہی خط میں یہ لکھتے مگر اس میں تو صرف اس پر زور ہے کہ فخر دین کو معاف کر دیں اور میری جو بد نامی آپ کر چکے ہیں اس کا ازالہ کریں۔بلکہ ایک جگہ تو صرف یہی مطالبہ ہے کہ فخر دین صاحب کو معاف کر دیں۔اس میں قربانی کی کونسی بات ہے۔ہاں جب وہ اپنا اندرونہ ظاہر کر چکے اور انہیں اچھی طرح علم ہو گیا کہ اب جماعت میں مجھے نہیں رہنے دیا جائے گا تو تیسرے خط میں یہ فقرہ لکھ دیا کہ میں بیعت سے علیحدہ ہو جاؤں گا۔مجھے افسوس ہے کہ باقی مضامین کے متعلق میں آج کچھ بیان نہیں کر سکا۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو پھر کبھی باقی باتوں کے متعلق بیان کر دوں گا۔بہر حال یہ بالکل غلط ہے کہ انہوں نے کوئی قربانی کی۔انہوں نے سو دا کرنا چاہا اور جواری کی طرح بازی لگا دی مگر ہار گئے۔وہ مجھے نہ ڈرا سکے تو کہا اچھا میں جماعت سے نکلتا ہوں۔ورنہ نہ ان پر کوئی ظلم ہوا اور نہ انہوں نے کوئی قربانی کی۔بلکہ انہوں نے خود ظلم کیا ہے کہ جماعت کے امام پر درندوں کی طرح حملہ کیا اور خدا کی مقدس جماعت کو دہر یہ کہا۔اس کے مقابلہ میں جماعت نے ان کو جو کچھ کہا وہ اس سے بہت کم ہے۔المائدة: 9 (الفضل ۳۰ جولائی ۱۹۳۷ ء ) ابوداؤد كتاب القضاء باب اذا علم الحاكم صدق شهادة الواحد (الخ) النور : ١٣ النور : ۷ بخاری کتاب التفسير باب لولا اذ سمعتموه۔۔۔۔۔الخ النور : ٢٣ >