خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 287

خطبات محمود ۲۸۷ سال ۱۹۳۷ء ساری عمر کیلئے سر پر سوار ہو جائیں گے اور اگر نہ ڈرے تو جو ہوگا دیکھا جائے گا۔مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ڈر سے محفوظ رکھا اور وہ چونکہ اپنے اندرونہ کو ظاہر کر چکے تھے اور سمجھتے تھے کہ اب ہم جماعت میں نہیں ہے رہ سکتے اس لئے آخری خط میں نوٹس دے دیا۔اسی قسم کا ایک خط مجھے ایک عورت نے ایک دفعہ لکھا تھا جو یہیں قادیان میں رہتی ہے۔ان کے کی خاوند یہاں کارکن ہیں۔بیوی کو شکایت پیدا ہوئی کہ یہاں کام زیادہ ہے اور دیر تک ان کا خاوند گھر پر نہیں آسکتا۔اس غصہ میں مجھے لکھا کہ میں نے اپنے خاوند کو کہا ہے کہ یہاں کی نوکری چھوڑ کر باہر چلے چلو لیکن وہ نہیں مانتے اس لئے اب آپ کو لکھتی ہوں کہ انہیں مجبور کریں کہ یہاں سے استعفیٰ دے کر باہر چلیں۔اگر آپ ایسا نہ کریں گے تو پھر یا درکھیں کہ میں اب زندگی سے تنگ آگئی ہوں میں آپ کا مقابلہ کروں گی اور مجھے آپ کے بہت سے راز معلوم ہو گئے ہیں۔آپ مجھے مستریوں کی طرح نہ سمجھیں وہ ای کمزور تھے مگر میرے ساتھ بڑے بڑے آدمی ہیں۔میں نے صرف اُس کے خاوند کو اس خط کا علم دے دیا اور کچھ نہ کیا۔وہ تو عورت تھی اور میں نے اس کی ان باتوں کو پاگلا نہ باتیں سمجھ کر کچھ بھی نہیں کہا۔مگر مصری صاحب تو تعلیم یافتہ آدمی ہیں ہیڈ ماسٹر تھے ، معزز عہدوں پر رہ چکے تھے ، مصری کہلاتے تھے، کوئی نادان عورت تو نہ تھے۔انہوں نے پھر کیسے خیال کر لیا کہ میں ان باتوں سے ڈر جاؤں گا۔ان کا تیسر ا خط بعد میں آیا۔اس سے پہلے میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب کو میں ان کے خط کا بتای چکا تھا۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ کیا کوئی صورت نہیں کہ جس سے معافی ہو جائے۔میں نے ان سے کہا کہ میں یہی سوچ رہا ہوں۔مگر انہوں نے کوئی رستہ بھی میرے لئے نہیں چھوڑا اور میرے لئے کوئی اور کی چارہ کار رہنے ہی نہیں دیا سوائے اس کے کہ میں بے غیرت بنوں۔بہر حال وہ سمجھدار آدمی تھے اور جانتے تھے کہ ان خطوط کے بعد معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا اور چونکہ انہیں اچھی طرح علم تھا کہ اس حرکت کی وجہ سے ضرور نکالا جاؤں گا اس لئے انہوں نے سوچا کہ میں خود ہی کیوں نہ یہ بات لکھ دوں تالہو لگا کر شہیدوں میں تو مل جاؤں اور یہ تو کہ سکوں کہ میں نے قربانی کی ہے۔ان کی مثال تو ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص کسی کے مکان پر جا کر قبضہ کر لے اور سامان وغیرہ اکٹھا کر لے کہ اتنے میں جب گھر والے دس بارہ آدمی آکر اسے پکڑیں تو کپڑے جھاڑ کر اُٹھ کھڑا ہو اور کہہ دے کہ اچھا میں قبضہ چھوڑتا ہوں۔اور پھر دعوی کرے کہ میں نے بڑی قربانی کی ہے۔وہ اپنے عمل کے خمیازہ میں جماعت سے نکلے ہیں،