خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 272

خطبات محمود ۲۷۲ سال ۱۹۳۷ء ساری دنیا کو تحقیقات کیلئے بلاتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ میں بتاتا کچھ نہیں یہ بھی تم خود ہی معلوم کرو کہ الزام کیا ہیں۔یہ کہنا بھی درست نہیں کہ کمیشن بٹھایا جائے تو ثبوت پیش کروں گا۔کیونکہ اگر ان کو یہ امید ہے کہ جماعت خلیفہ پر کمیشن بٹھائے گی تو اس کیلئے بھی تو ان کو کوئی الزام معلوم ہو گا۔کوئی ابتدائی ثبوت ملیں گے تو اسے ایسی تحریک ہو سکتی ہے بغیر اس کے کس طرح ہو سکتی ہے۔آخر ایک جماعت کو بے ایمان بنانا کوئی ایسا آسان امر تو نہیں کہ مصری صاحب کہیں گے کہ چھوڑ دو خلیفہ کو اور وہ چھوڑ دیں گے۔اگر جماعت احمدیہ کے ایمان سے مصری صاحب کو اپنے ایمان کی کمزوری کی وجہ سے واقفیت نہیں تو انسانی فطرت سے تو کچھ آگا ہی ہونی چاہئے۔مومن تو الگ رہے کا فر بھی محض یہ سن کر اپنے پیاروں کو نہیں چھوڑی دیتے کہ ان پر کوئی الزام لگایا گیا ہے۔پس اگر مصری صاحب دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت کوئی کمیشن بٹھائے گی تو بھی انہیں الزام اور بعض ثبوت دے کر جماعت میں یہ احساس پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی کہ فی الواقع معاملہ اہم ہے۔لیکن اگر وہ خود ان الزامات کو پیش کرنا بے حیائی خیال کرتے ہیں تو دوسرے ان کی جگہ پر کیوں بے حیا بنیں۔یا اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت پر تو ان کی باتوں کا اثر نہ ہوگا۔میں احرار اور پیغامیوں میں پرو پیگنڈا کروں تو پھر انہیں یہ جھوٹ کا ڈھونگ نہیں کی رچانا چاہئے تھا اور کھلے طور پر اپنے نئے دوستوں میں شامل ہو جانا چاہئے تھا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں ان باتوں کی شہرت نہ ہو اور جماعت کی بدنامی نہ ہو۔مگر لطیفہ یہ ہے کہ یہ اشتہارات احرار اور پیغامیوں کے ذریعہ چھپتے اور تقسیم ہوتے ہیں۔پھر میں نے اخبار ” احسان میں ایک نوٹ پڑھا جو اسی مضمون پر مشتمل ہے جو مصری صاحب کے خطوں سے ملتا جلتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ احسان میں یہ نوٹ کیسے چھپا۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کے تعلقات ان لوگوں سے ہیں اور انہی کی شہ پر یہ کھڑے ہیں اور ساری دنیا میں ان کے اشتہار پہنچے ہیں مگر ابھی ان کو ڈر ہے کہ جماعت کی بدنامی نہ ہو۔فخر الدین صاحب نے ایک اشتہار دیا ہے اور اس میں لکھا ہے کہ اس کے اخراج کے متعلق جو تقریر میں نے کی تھی ، اس موقع پر بہت سے ہندو اور سکھ بھی موجود تھے۔اور یہ کہ جب میں نے اس کے متعلق کم بخت وغیرہ لفظ استعمال کئے تو وہ شرم سے پانی پانی ہو ا جاتا تھا اور خیال کر رہا تھا کہ یہ لوگ احمدی