خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 264

خطبات محمود ۲۶۴ صلى الله سال ۱۹۳۷ء مشغول ہیں اور کوئی بہت بڑی تقریب ہے جس پر آپ نے تقریر کرنی ہے اور آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس تقریر کے سننے کی خاطر تشریف لائے ہوئے ہیں اور صحن میں جو بہت سے لوگ ہیں وہ بھی اسی لئے آئے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ حضور کے روحانی مراتب میں بہت بہت ترقی دے اور مجھے حضور کا سچا اور پکا خادم بنائے اور ہمیشہ حضور کے دامن کے ساتھ وابستہ رکھے“۔اس خواب میں ملک غلام فرید صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آنحضرت کے بائیں طرف بیٹھے دیکھا ہے اور صاف طور پر لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضر کے بائیں طرف بیٹھے ہیں۔اب یہاں اگر وہی تعبیر لگائی جائے جو مصری صاحب نے کی تو نَعُوذُ بِاللهِ کہنا پڑے گا کہ رسول کریم ﷺ کو خواب میں دائیں طرف دکھلایا گیا ہے اور آپ کو بائیں طرف۔اب سورۃ الواقعہ میں اصحاب الشمال کا حال پڑھ لیں وہاں صاف لکھا ہے وَإِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذلِكَ مُتْرَفِينَ - وَ كَانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيم۔کیا ایسی گندی اور نا پاک تعبیر جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نَعُوذُ بِاللهِ جہنمی قرار دینا پڑے اس قابل ہوسکتی ہے کہ اسے صحیح تصور کیا جائے۔اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ تعبیر کس قدر غلط ہے۔اس تعبیر کو اگر درست سمجھا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ جہنمی ماننا پڑتا ہے۔کیونکہ ملک غلام فرید کی صاحب نے انہیں آنحضرت ﷺ کے بائیں طرف دیکھا۔مگر ہم میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں جو ایسی گندی اور نا پاک تعبیر اس خواب کی کر سکے۔پس ان کی یہ تعبیر ان کے نفس کا اختراع ہے۔حقیقت۔اس کا دور کا بھی تعلق نہیں۔پھر وہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ خواب میں ان کے متعلق بین طور پر بتایا گیا ہے کہ وہ منہ چڑا رہے ނ ہیں اب کیا منہ چڑانا مؤمنانہ شیوہ ہے؟ جب نہیں تو انہیں خود اپنے ایمان کا فکر کرنا چاہئے اور بجائے اس کے کہ دوسروں کو سمجھا ئیں انہیں خود سوچنا چاہئے کہ ان کا انجام خواب سے کیا ظاہر ہو رہا ہے۔اگر ان کی میں کچھ بھی عقل و فہم ہوتی تو وہ اپنے آپ کو دائیں طرف اور مجھے بائیں طرف خواب میں معلوم کر کے اس نتیجہ پر پہنچتے کہ دائیں طرف ہونے سے یہ مراد ہے کہ وہ میرے احسانات کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم صدقہ کرو تو دائیں طرف سے شروع کرو۔لے پس اس خواب کے یہ معنے تھے کہ میں نے اس شخص سے کئی دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ حسنِ سلوک کیا اور متواتر