خطبات محمود (جلد 18) — Page 256
خطبات محمود ۲۵۶ سال ۱۹۳۷ء دلانا اور احمدیوں سے سودا لے کر انہیں کسی نہ کسی الزام کے نیچے لانا ہے۔ابھی چند دن ہوئے میرے علم میں یہ بات لائی گئی کہ میاں فخر دین نے فلاں احمدی قصاب سے گوشت لیا ہے۔ناظر ( امور عامہ ) نے اس قصاب سے جواب طلبی کی اور اُسے جرمانہ کیا۔مجھے جب معلوم ہوا تو میں نے ناظر صاحب کو روکا اور میں نے کہا جرمانہ جانے دیں، آپ صرف نگرانی کریں۔باقی اس ہدایت کی لفظی پابندی کا تعہد نہ کریں، حالانکہ یہ جرمانہ بالکل جائز تھا کیونکہ جب غیر احمدی قصاب موجود ہیں اور وہ اس سے گوشت خرید سکتا ہے تو احمدی قصاب سے گوشت خریدنے کے کیا معنے ہیں۔اگر غیر احمدی قصاب جھٹکا کرتے تب تو وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم جھٹ کا نہیں کھا سکتے ، ہمیں حلال گوشت چاہئے۔لیکن جب وہ بھی اسی طرح حلال کرتے ہیں جس طرح احمدی ، تو پھر کیوں وہ غیر احمدی قصاب سے گوشت نہیں لے سکتے۔پس چونکہ مصری صاحب ہمیں ان لوگوں کے نام نہیں بتاتے اس لئے ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ غلط بیانی کر رہے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اگر میں نے کسی کا نام لے دیا تو اس سے دریافت کرنے پر پتہ لگ جائے گا کہ میں نے غلط بیانی کی ہے۔اس لئے وہ ان کے نام چھپاتے ہیں اور تحقیقات سے بھی اسی لئے گریز کرتے ہیں تا حقیقت نہ کھل جائے اور تا جو کمزور دل لوگ ہیں وہ اس شور و سے یہ نتیجہ نکالیں کہ کچھ نہ کچھ ظلم تو ہوا ہی ہوگا جس کی بناء پر یہ شور مچایا گیا ہے۔دنیا میں بعض کمزور دل ہوتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب بھی کوئی شور مچائے خواہ اُس کا شور کس قدر بے بنیاد باتوں پر مبنی ہو وہ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ بات تو ضرور ہوئی ہوگی۔بغیر کسی بنیاد کے بات تو نہیں اُٹھائی جاسکتی اور بعض کمزور ایمان ہوتے ہیں وہ بھی اسی رو میں بہہ جاتے اور یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی بات تو ضرور ہوئی ہوگی۔چنانچہ ایک مولوی صاحب کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے بھی ایک دوست کے سامنے ذکر کیا کہ شیخ مصری صاحب نے جن مظالم کا ذکر کیا ہے، ان میں کوئی بات تو ضرور ہوگی۔دراصل جب بھی کوئی شخص کمزور ہو خواہ اس کی کمزوری ایمانی ہو یا جسمانی ، اس کے دل میں ایسے خیالات پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اور یہی طبائع ہوتی ہیں جو منافقین کا اثر قبول کر لیتی ہیں اور انہی لوگوں کی طبائع کو دیکھ کر وہ جھوٹ بولنے میں دلیر ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جماعت میں بعض ایسے لوگ موجود ہیں جو ہمارے شور مچانے کو ضرور کسی نہ کسی حقیقت پر محمول کریں گے اور کسی حد تک ہمارے پروپیگینڈا سے متاثر ہو جائیں گے۔