خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 255

خطبات محمود ۲۵۵ سال ۱۹۳۷ء در حقیقت خود خلیفہ صاحب اور ان کے ناظر صاحبان ہیں اس لئے میں ان کی تحقیق سے مطمئن نہیں ہو سکتا اور نہ موجودہ حالات میں مجھے ان سے کسی انصاف کی توقع ہے اور نہ ملزم کو حج بنایا جاسکتا ہے۔میں اپنے دلائل یا اُس آزاد کمیشن کے سامنے رکھوں گا جو جماعت کی طرف سے مقرر ہو یا اگر جماعت نے توجہ نہ کی کی تو حکام کے سامنے رکھوں گا“۔میں اس کے جواب میں سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہہ سکتا جو ایسے ہی تلخ موقعوں پر کہا جاتا ہے ہے کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ۔مصری صاحب بھی اگر ہمت رکھتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ قسم کھا کر کہہ دیں کہ یہ تمام مظالم جن کے متعلق ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ان پر ہوئے میری ہی انگیخت اور علم سے ہوئے ہیں اور یہ کہ اگر وہ اس بات میں جھوٹے ہوں تو لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کی وعید کے مورد ان بنیں پھر اللہ تعالیٰ خود بخود فیصلہ کر دے گا کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ بول کر حق کو چھپا رہا ہے۔میں جیسا کہ بتا چکا ہوں ہم نے ان سے کہا کہ وہ ان لوگوں کے نام بتائیں جن کے متعلق وہ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مظالم کئے مگر وہ ان کے نام تک بتانے کیلئے تیار نہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اس پردہ داری سے ان کی غرض کیا ہے۔اگر وہ بچے تھے تو ان لوگوں کے نام لے دیتے اس صورت میں بہت حد تک یہ معاملہ صاف ہو جاتا۔مثلاً اگر وہ کہہ دیتے کہ میاں محمد یوسف صاحب شیر فروش نے دودھ د۔سے انکار کر دیا تھا تو ہم ان سے دریافت کرتے اور اگر وہ انکار کر دیتے اور کہتے کہ میں نے ہر گز دودھ کی دینے سے انکار نہیں کیا تو وہ کہہ سکتے تھے کہ ڈر کر اس نے جھوٹ بول دیا۔لیکن اس کا فائدہ یہ ہو جاتا کہ اس کے بعد میاں محمد یوسف صاحب سے دوسرا آدمی ملتا، پھر تیسرا ملتا پھر چوتھا اور جب ہر ایک کے سامنے وہ یہی بیان دیتے کہ مجھے کسی نے نہیں روکا تو معلوم ہو جاتا کہ مصری صاحب جھوٹ بول رہے ہیں۔اور اگر کسی کے پاس کہہ دیتے کہ اصل میں تو مجھے روکا گیا تھا لیکن میں نے ڈر کے مارے یہ بات نہیں کی تو لوگ سمجھ جاتے کہ ناظر صاحب امور عامہ نے اپنے اعلان میں جھوٹ سے کام لیا۔پس یقین کی اگر شیخ صاحب لوگوں کے نام بتادیتے تو انہیں فائدہ ہوتا اور لوگ ان لوگوں سے مل مل کر اور کرید کرید کر حالات دریافت کر کے حقیقت تک پہنچ جاتے۔اس صورت میں انہیں لوگوں کے پاس جا کر اپنی شکایات پہنچانے کی ضرورت نہ رہتی خود بخو دلوگ شیر فروشوں اور آرد فروشوں سے مل کر دریافت کر لیتے کہ بات کیا ہوئی۔مگر انہوں نے یہ طریق اختیار نہیں کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مقصد محض اشتعال